اُڑاتے ہيں، اس کا لوگوں ميں چرچہ ہوگيا، مرقات نے فرمايا ممکن ہے کہ لوگوں کو يہ خبر الہامِ الٰہی سے معلوم ہوئی ہو، اور ہوسکتا ہے کہ کوئی فرشتہ شکل انسانی ميں آکر لوگوں سے يہ کہہ گيا ہو، غرض کہ اس کا چرچہ ہوگيا۔
اور چور پر صدقہ کرنے کے باوجود حمد کرنا،يہ کلمہ تعجب کا ہے يعنی وہ شخص صدقہ ضائع ہونے پر دل تنگ نہيں ہوا بلکہ خدا کا شکر ہی کيا، اور تعجب کے طور پر يہ کہا، اللہ کے مقبول بندے مصيبت پر بھی شکر ہی کرتے ہيں۔
اور وہ کہنا کہ اب پھر صدقہ کروں گا، يعنی ميرا وہ صدقہ تو بیکار گيا کيونکہ صحيح مَصرف پر نہ پہنچاجيسے کھاری زمين ميں دانہ اسکی جگہ اور صدقہ دوں گا، اس سے معلوم ہوا کہ اگر صدقہ صحيح جگہ نہ پہنچے، تو واپس نہ لے بلکہ اسکی بجائے اور صدقہ دے، چونکہ آج بھی صدقہ چھپانے کيلئے اندھيری رات ہی ميں نکلا تھا، اس لئے ايک فاسقہ زانيہ عورت کو مسکين جان کر خيرات دے دی اور دھوکا کھا گيا۔
مالدار کو فقير سمجھ کر يا يہ مالدار کوئی کنجوس تھا جو پھٹے پرانے کپڑے پہنے تھا اور حریص بھی کہ جانتے ہوئے خيرات لے لی، جيسا کہ آج کل بھی کنجوسوں کو دیکھا جاتا ہے، لہٰذا حديث پر يہ اعتراض نہيں کہ دينے والے نے دھوکا کيسے کھايا اور لينے والے نے غنی ہونے کے باوجود خيرات لے کيوں لی، موجودہ زمانہ کے حالات دیکھتے ہوئے ان اعتراضوں کی گنجائش ہی نہيں۔ظاہر يہ ہے کہ غنی نے خود کسی سے نہ کہا ہوگا کہ کنجوس حریص ان باتوں کا چرچا نہيں کرتے بلکہ چھپانے کی کوشش کرتے ہيں۔
اور بندے کو جواب دئيے جانے کاخلاصہ يہ ہے کہ تيرے يہ تينوں صدقے کار آمد ہيں کوئی بیکار نہ گيا، چور اور زانيہ کے لئے تو گناہوں سے بچنے کا ذريعہ بنے گا