Brailvi Books

ضیائے صدقات
195 - 408
    امام جلال الدين سيوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ فرماتے ہيں، کہ امام احمد نے اپنی مسند ميں زيادتی فرمائی کہ وہ شخص بنی اسرائيل سے تھا۔۱؎

    اور علامہ نور الدين سندھی نے فرمايا کہ اس حديث سے يہ بات ثابت ہوتی

ہے کہ سابقہ شریعتوں ميں جو حکم مشروع ہوں جب تک منسوخ نہ ہوئے، ہمارے لئے بھی مشروع ہی رہے کيونکہ وہ شخص بنی اسرائيل سے تھا جيسا کہ امام احمد نے اپنی مسند ميں فرمايا اور اس شخص کا حمد بيان کرنا تعجب کے لئے بھی ہوسکتا ہے (يعنی اس نے متعجب ہوکر اللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کہا) جيسا کہ تعجب کے وقت سُبْحَانَ اللہ کہا جاتا ہے۔۲؎

    اور حکیم الامت مفتی محمد احمد يار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ اس حديث شريف کی شرح ميں فرماتے ہيں، يعنی تم سے پہلے ايک بنی اسرائيلی نے اپنے دل ميں کہا يا اپنے دوستوں يا گھر والوں پر اپنا يہ ارادہ ظاہر کيا يا رب تعالیٰ کی بارگاہ ميں عرض کيا کہ آج ميں خيرات دوں گا، ظاہر يہ ہے کہ خيرات سے نفلی صدقہ مراد ہے ممکن ہے اُس نے کوئی نذر مانی ہو جس کے پورا کرنے کا ارادہ کيا۔

    اوررات کے اندھيرے ميں اکيلے ميں ايک شخص کو فقير جان کر وہ خيرات دے دی، اُس نے لوگوں ميں پھيلا ديا کہ مجھے ايک آدمی خيرات دے گيا، جيسا کہ آوارہ لوگوں کا طریقہ ہے کہ دھوکا دينے پر فخر کرتے ہيں اور دھوکا کھانے والے کا مذاق
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (حاشيۃ العلامۃ السيوطي علی سنن النسائي،کتاب الزکاۃ،باب إذا أعطاھا غنيا... إلخ، الحديث: ۲۵۲۲،الجزء۵،ج۳،ص۵۹)

۲؎     (حاشيۃ العلامۃ السندي علی سنن النسائي،کتاب الزکاۃ،باب إذا أعطاھا غنيا... إلخ،الحديث: ۲۵۲۲،الجزء۵،ج۳،ص۵۹)
Flag Counter