| ضیائے صدقات |
حاجت ہے؟ اس نے کہا اللہ تعالیٰ آپ کو فلاح و درستگی عطا فرمائے مجھے کوئی کام نہيں ميں نے آپ کو اکيلے چلتا ديکھا تو ميں نے سوچا آپ کی حفاظت کروں اور ميں اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں کہ آپ کو کوئی مکروہ بات پہنچے۔ حضرت عبد اللہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ گھر لے گئے پھر ايک ہزار دينار منگواکر اس لڑکے کو دئيے اور فرمايا يہ خرچ کرو تمہارے گھر والوں نے تمہاری بہت اچھی تربيت کی ہے۔۱؎
یونہی قريش ميں سے ايک شخص سفر سے واپس آيا تو راستے ميں ايک ديہاتی کو دیکھا جو مفلس اور بيمار تھا اس نے کہا ہمارے ان حالات کے پيش نظر ہماری مدد کرو اس آدمی نے اپنے غلام سے کہا جو کچھ ہمارے پاس خرچ سے بچا ہو وہ اس شخص کو دے دو تو غلام نے اس آدمی کی جھولی ميں چار ہزار درہم ڈال دئيے۔ ۲؎
ايک اور حديث شريف:عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''قَالَ رَجُلٌ: لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَۃٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِہِ فَوَضَعَھَا فِيْ يد سَارِقٍ فَأَصْبَحُوْا يتحَدَّثُوْنَ تُصُدِّقَاللَّيلۃَ عَلٰی سَارِقٍ، فَقَالَ: اللّٰہُمَّ لَکَ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص نے کہا میں صدقہ کروں گا وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اسے ایک چور کے ہاتھ میں دے دیا صبح کولوگوں میں چرچا ہوا کہ آج رات چور کو صدقہ دیا گیااس شخص نے کہا اے اللہ
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، حکايات الأسخياء،ج۴،ص۳۳۳) ۲؎ (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، حکايات الأسخياء،ج۴،ص۳۳۴)