نفس کے لالچ سے بچايا گيا تو وہی کامياب ہيں (کنزالايمان[الحشر:۵۹/۹])۔
تراقی، ترقوت کی جمع ہے، ترقوت وہ ہڈی ہے جو سينہ سے اوپر اور گردن کے نیچے ہے، چونکہ يہ ہڈياں گردن کے دو طرفہ ہوتی ہيں اس لئے دو آدميوں کی چار ہڈياں ہوں گی، اس لحاظ سے تراقی جمع ارشاد ہوا، اضْطُرَّتْ مجہول فرماکر اشارۃً يہ بتايا کہ انسان کا يہ بخل قدرتی ہے اختياری نہيں۔
حديث شريف ميں فرمايا، زرہ مزيد تنگ ہوجاتی ہے اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جاتی ہے، ''سبحان اللہ کيا نفيس تشبيہ ہے يعنی بخيل بھی کبھی خيرات کرنے کا ارادہ کرتا ہے مگر اُس کے دل کی ہچکچاہٹ اس کے اِرادہ پر غالب آجاتی ہے اور وہ خيرات نہيں کرتا، اور سخی کو بھی خيرات کرتے وقت ہچکچاہٹ ہوتی ہے مگر اس کا ارادہ اس پر غالب آجاتا ہے، اسی غلبہ پر سخی ثواب پاتا ہے، پھر سخاوت کرتے کرتے نفس امارہ اتنا دب جاتا ہے کہ اس کو کبھی خيرات پر ہچکچاہٹ پيدا ہی نہيں ہوتی، يہ بہت بلند مقام ہے جہاں پہنچ کر انسان کھُلے دل سے صدقہ کرنے لگتا ہے، ہر عبادت کا یہی حال ہے کہ پہلے نفس امارہ روکا کرتا ہے مگر جب اس کی نہ مانی جائے تو روکنا چھوڑ ديتا ہے، نفس کی مثال شير خوار بچّے کی سی ہے جو دودھ چھوڑتے وقت ماں کو بہت پريشان کرتا ہے، مگر جب ماں اس کی ضد کی پرواہ نہيں کرتی تو وہ پھر دودھ نہيں مانگتا۔۱؎
حُجّۃ الاسلام امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی نقل فرماتے ہیں، حضرت عبد اللہ بن عامر بن کريز مسجد سے اکيلے گھر جانے کے لئے نکلے تو قبيلہ ثقيف سے ايک لڑکا آپ کے پيچھے ہوگيا اور آپ کے ساتھ ساتھ چلنے لگا حضرت عبد اللہ نے فرمايا اے لڑکے تمہيں کوئی