| ضیائے صدقات |
الْبَخِيل وَالْمُتَصَدِّقِ کَمَثَلِ رَجُلَين، عَلَیھِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيد، قَدِ اضْطُرَّتْ أَيدےْھِمَا إِلٰی ثُدَیھِمَا وَتَرَاقِےْھِمَا، فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ کُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ انْبَسَطَتْ عَنْہُ حَتّٰی تَغْشٰی أَنَامِلَہُ، وَتَعْفُوَ أَثَرَہُ، وَجَعَلَ الْبَخِيل کُلَّمَا ھَمَّ بِصَدَقَۃٍ قَلَصَتْ، وَأَخَذَتْ کُلُّ حَلْقَۃٍ بِمَکَانِھَا''.۱؎
شخصوں جيسی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں اور ان کے ہاتھ ان کے سينوں اور گردنوں سے جکڑے ہوئے ہوں سخی جب خيرات کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو زرہ پھيل جاتی ہے یہاں تک کہ اس کے پَورَوْں کو ڈھانپ لیتی ہے اور اس کے نشانات مٹا دیتی ہے اور کنجوس جب خيرات کا ارادہ کرتا ہے تو زرہ تنگ ہوجاتی ہے اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جاتی ہے۔
يہ تشبيہ مرکّب ہے جس ميں دو شخصوں کی پوری حالتوں کو دوسرے دوشخصوں کے پورے حال سے تشبيہ دی گئی ہے يعنی کنجوس اور سخی کی حالتيں ان دو شخصوں کی سی ہيں جن کے جسم پر لوہے کی زرہيں ہيں، انسان کی خلقی اور پيدائشی محبتِ مال اور خرچ کرنے کو دل نہ چاہنے کو زرہوں سے تشبيہ دی گئی کہ جيسے زرہ جسم کو گھيرے اور چمٹی ہوتی ہے ايسی محبتِ مال انسان کے دل کو چمٹی ہوتی ہے رب تعالیٰ فرماتا ہے:(وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ ﴿ۚ۹﴾)۔
ترجمہ: اور جو اپنے
مدینـــــــــــــــــــــــــــــہ
۱؎ (صحيح البخاري، کتاب الزکاۃ، باب مثل المتصدق والبخيل،الحديث:۱۴۴۳، ج۱،ص۳۵۳)
(صحيح مسلم، کتاب الزکاۃ،باب مثل المنفق والبخيل،الحديث:۷۵۔(۱۰۲۱)،ص۳۶۶)
(مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ،باب الإنفاق وکراھيۃ الإمساک،الحديث:۱۸۶۴،ج۲،ص۳۵۴)