Brailvi Books

ضیائے صدقات
190 - 408
عنہ اپنے گھر کے دروازے ميں بیٹھے ہوئے ہيں آپ نے اس عورت کو پہچان ليا لیکن وہ آپ کو پہچان نہ سکی آپ نے غلام کو بھيج کر خاتون کو بلوايا اور فرمايا اے اللہ کی بندی! مجھے پہچانتی ہو؟ اس نے عرض کيا نہيں۔ فرمايا ميں فلاں فلاں دن تمہارے پاس مہمان تھا بوڑھی عورت نے کہا ميرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ وہی ہيں؟ فرمايا ہاں، پھر حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم ديا تو صدقہ کی بکريوں ميں سے ايک ہزار بکرياں خريد کر اور مزید ايک ہزار دينار اسے دے کر اپنے غلام کے ہمراہ حضرت امام حسينرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھيجا انہوں نے پوچھا ميرے بھائی نے تمہيں کيا ديا؟ اس نے عرض کيا ايک ہزار بکرياں اور ايک ہزار دينار۔ حضرت امام حسين رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اسی قدر مال دينے کا حکم ديا پھر اسے اپنے غلام کے ہمراہ حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھيجا تو حضرت عبد اللہ بن جعفررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے دو ہزار بکرياں اور دو ہزار دينار دئيے اور فرمايا اگر تم پہلے ميرے پاس آتيں تو ميں تمہيں اتنا ديتا کہ ان دونوں کے لئے مشکل ہوجاتا۔ وہ خاتون چار ہزار بکرياں اور چار ہزار دينار لے کر اپنے خاوند کی طرف واپس آئيں۔۱؎

    ايک اور حديث شريف:
عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ''مَثَلُ
حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، کنجوس اور سخی کی مثال ان دو
مدینـــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (إحياء علوم الدين،کتاب ذم البخل وذم حب المال، حکايات الأسخياء،ج۴،ص۳۳۳)
Flag Counter