عنہ اپنے گھر کے دروازے ميں بیٹھے ہوئے ہيں آپ نے اس عورت کو پہچان ليا لیکن وہ آپ کو پہچان نہ سکی آپ نے غلام کو بھيج کر خاتون کو بلوايا اور فرمايا اے اللہ کی بندی! مجھے پہچانتی ہو؟ اس نے عرض کيا نہيں۔ فرمايا ميں فلاں فلاں دن تمہارے پاس مہمان تھا بوڑھی عورت نے کہا ميرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ وہی ہيں؟ فرمايا ہاں، پھر حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم ديا تو صدقہ کی بکريوں ميں سے ايک ہزار بکرياں خريد کر اور مزید ايک ہزار دينار اسے دے کر اپنے غلام کے ہمراہ حضرت امام حسينرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھيجا انہوں نے پوچھا ميرے بھائی نے تمہيں کيا ديا؟ اس نے عرض کيا ايک ہزار بکرياں اور ايک ہزار دينار۔ حضرت امام حسين رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اسی قدر مال دينے کا حکم ديا پھر اسے اپنے غلام کے ہمراہ حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھيجا تو حضرت عبد اللہ بن جعفررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے دو ہزار بکرياں اور دو ہزار دينار دئيے اور فرمايا اگر تم پہلے ميرے پاس آتيں تو ميں تمہيں اتنا ديتا کہ ان دونوں کے لئے مشکل ہوجاتا۔ وہ خاتون چار ہزار بکرياں اور چار ہزار دينار لے کر اپنے خاوند کی طرف واپس آئيں۔۱؎
ايک اور حديث شريف: