Brailvi Books

ضیائے صدقات
189 - 408
    حضرت ابو الحسن مدائنی فرماتے ہيں کہ حضرت امام حسن، حضرت امام حسين اور حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہم حج کے لئے تشريف لے گئے راستے ميں اپنے سامان سے بچھڑ گئے تو بھوک اور پياس محسوس ہوئی اس دوران ايک بوڑھی عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے خیمہ ميں تھی فرمايا کيا پينے کے لئے کچھ ہے؟ اس نے عرض کی جی ہاں، وہ سواريوں سے اترے تو اس کے پاس خیمہ کے کنارے ميں صرف ايک چھوٹی سی بکری تھی۔ اس خاتون نے کہا اس کو دَوہ کر اس کا دودھ نوش فرمائيں۔ چنانچہ ان تينوں حضرات نے اسی طرح کيا پھر اس عورت سے فرمايا کچھ کھانے کو ہے؟ اس نے کہا اس بکری کے سوا کچھ نہيں آپ ميں سے کوئی ايک اسے ذبح کردے تاکہ ميں آپ کے کھانے کے لئے اسے تيار کروں تينوں حضرات ميں سے ايک کھڑے ہوئے اور اسے ذبح کرکے اس کی کھال اتاری پھر اس نے ان کے لئے کھانا تيار کيا تينوں حضرات نے کھايا اور دھوپ کی شدت کم ہونے تک ٹھہرے رہے جب جانے لگے تو فرمايا ہم قريش کے لوگ ہيں حج کے لئے جارہے ہيں اگر صحيح سلامت واپس آگئے تو ہمارے پاس آنا ہم تم سے اچھا سلوک کريں گے۔ پھر چلے گئے اس عورت کا خاوند آيا تواس نے ان حضرات اور بکری کا معاملہ ذکر کيا اس شخص کو غصّہ آيا اس نے کہا تيرے لئے ہلاکت ہو تو نے ان لوگوں کے لئے بکری ذبح کرڈالی جن کے بارے ميں تجھے کوئی علم نہيں کہ کون ہيں پھر تو کہتی ہے کہ وہ قريش کے کچھ لوگ تھے۔

    راوی کہتے ہيں پھر کچھ مدت کے بعد ان دونوں مياں بيوی کو مدينہ طيبہ جانے کی ضرورت پڑی وہ وہاں پہنچے اور اونٹوں کی مينگنياں بیچ کر گزارہ کرنے لگے۔ وہ خاتون مدينہ طيبہ کی ايک گلی سے گزر رہی تھی تو دیکھا کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ