مال اپنے مال سے زيادہ پيارا ہے؟، صحابہ علیہم الرضوان نے عرض کی، يا رسول اللہ ہم ميں سے ہر ايک کو اپنے وارث کی بنسبت اپنا مال زيادہ عزيز ہے، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، تو اُس کا مال وہ ہے جو آگے بھيج دے، اور اُس کے وارث کا مال وہ ہے جو چھوڑ جائے۔
يعنی کون چاہتا ہے کہ ميرے پاس مال نہ ہو ميرے عزيزوں کے پاس مال ہو وہ سب امير ہوں ميں فقير کنگال ہوں اس فرمان کا يہ مقصد ہے (اشعہ) لہٰذا اس فرمان عالی پر يہ اعتراض نہيں کہ بعض لوگوں کو دوسروں کا مال بڑا پسند ہوتا ہے يا يہ مقصد ہے کہ ايسا کون ہے جو دوسروں کا مال ان کے لئے سنبھال کر رکھے اپنا مال برباد کردے يا برباد ہونے دے۔
خلاصہ يہ ہے کہ مال دوسروں کا ہے اعمال اپنے ہيں جو مال خيرات کرديا جائے وہ اعمال بن گيا اور جو جمع کرکے چھوڑ گيا وہ نِرا مال رہا۔ اور جس مال کی زکوٰۃ نہ دی وہ اپنے لئے وبال، وارثوں کے لئے مال ہوا، خيال رہے کہ مال سے صدقات وخيرات کرتے رہنا پھر اللہ ورسول کی رضا کے لئے وارثوں کو غنی کرنے کے لئے مال چھوڑنا يہ بھی عبادت ہے۔۲؎