بصرہ کے قراء حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت ميں حاضر ہوئے ان دنوں آپ بصرہ کے حاکم تھے انہوں نے عرض کيا کہ ہمارے پڑوس ميں ايک شخص رہتا ہے جو روزہ دار اور رات کو نماز پڑھنے والا ہے اور ہم ميں سے ہر ايک اس کی مثل ہونا چاہتا ہے اس نے اپنی بہٹی کا رشتہ اپنے بھتيجے کو ديا ہے اور وہ ايک فقير آدمی ہے اس کے پاس بہٹی کو جہيز دينے کے لئے کچھ نہيں ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کھڑے ہوئے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر انہيں گھر کے اندر لے گئے ايک صندوق کھولا اور اس سے چھ تھالياں نکاليں اور فرمايا ان کو اٹھالو، انہوں نے وہ تھالياں اٹھائيں تو آپ نے فرمايا ہم نے انصاف نہيں کيا ہم نے اسے جو کچھ ديا ہے وہ اسے رات کے قيام اور روزے سے دور کریگا ہمارے ساتھ چلو ہم اس لڑکی کے جہيز کے سلسلے ميں اس شخص کے مددگار بنيں دنيا کی اتنی حيثيت نہيں کہ وہ کسی مومن کو عبادتِ خداوندی سے روک دے اور ہم ميں بھی اتنا تکبر
نہيں ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے دوستوں کی مدد نہ کريں چنانچہ آپ نے ان سب کے ساتھ مل کر جہيز تيار کرکے ديا۔۱؎
حديث شريف ميں ہے: