Brailvi Books

ضیائے صدقات
186 - 408
عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''يقُوْلُ الْعَبْدُ مَالِيْ مَالِيْ، وَإِنَّمَا لَہُ مِنْ مَّالِہِ ثَلَاثٌ: مَا أَکَلَ فَأَفْنٰی، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلٰی، أَوْ أَعْطٰی فَاقْتَنٰی مَا سِوٰی ذٰلِکَ فَھُوَ ذَاھِبٌ وَتَارِکُہُ لِلنَّاسِ''.۱؎
حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا کہ بندہ کہتا ہے، ميرا مال ميرا مال حالانکہ اُس کے مال صرف تين ہيں، جو کھا کر ختم کردے، يا پہن کر گلا دے، يا دے کر جمع کردے جو اُن کے علاوہ ہے وہ تو جانے والا ہے، اور وہ اُسے لوگوں کے لئے چھوڑتا ہے۔

    يعنی فخر وتکبر کے انداز ميں کہتا رہتا ہے کہ يہ ميرا مکان ہے، يہ ميری جائيداد ہے يہ ميرا کنواں ہے يہ ميرا فلاں مال ہے، يہ برا ہے۔ انسان کو چاہے کہ یقين

رکھے کہ ميں اور ميرا مال سب اللہ تعالیٰ کی مِلک ہے ميرے پاس چند روزہ ہے عارضی ہے خيال رہے کہ جسے انسان اپنا مال کہے اس کا مال يعنی انجام نِرا وبال ہے اور جو مال ذريعہ عبادت ہے وہ ذريعہ آمال ہے جس سے بہت اميديں وابستہ ہيں۔

    حديث شريف ميں ''اُس کے مال صرف تين ہيں'' سے مراد: ''يعنی جو مال انسان کے کام آويں (آئيں) وہ صرف تين ہيں ان کے علاوہ سب دوسروں کے کام آتے ہيں۔۲؎
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (صحيح مسلم، کتاب الزھد والرقائق،الحديث: ۴۔(۲۹۵۹)،ص۱۱۳۳)

(سنن الترمذي،کتاب الزھد،الحديث: ۲۳۴۲،ج۳،ص۳۰۳)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب الرقاق، الفصل الأول، ۵۱۶۶،ج۲،ص۲۴۳)

۲؎ (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابيح، ج۷،ص۱۰)
Flag Counter