| ضیائے صدقات |
آگ بھڑک جاتی ہے۔ فتح مکّہ کے دن کی عام معافی سے سارے کفار مسلمان ہوکر حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مطیع فرمان ہوگئے، معافی سے دلوں پر قبضے ہوجاتے ہيں مگر معافی اپنے حقوق ميں چاہے نہ کہ شرعی حقوق ميں، قومی، ملکی دينی مجرموں کو کبھی معاف نہ کرو، اپنے مجرم کو معاف کردو۔۱؎
حديث شريف ميں ہے:عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللہُ عَنْھُمَا رَفَعَہُ قَالَ: ''مَا نَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِّنْ مَّالٍ، وَمَا مَدَّ عَبْدٌ يدہُ بِصَدَقَۃٍ إِلَّا أُلْقِيت فِيْ يد اللہِ قَبْلَ أَنْ تَقَعَ فِيْ يد السَّاءِلِ، وَلَا فَتَحَ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَۃٍ لَّہُ عَنْھَا غِنًی إِلَّا فَتَحَ اللہُ لَہُ بَابَ فَقْرٍ''.۲؎
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا، صدقہ دینے سے مال کم نہيں ہوتا اور جب کوئی شخص صدقہ دینے کے ليے اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے تو وہ مالِ صدقہ سائل کے ہاتھ ميں پہنچنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں پہنچ جاتا ہے(یعنی صدقہ جلد قبول ہو تا ہے) اور جو شخص خود پر بلا حاجت سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ فقر کا دروازہ کھول ديتا ہے۔
ايک اور حديث شريف ميں ہے:مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابيح، ج۳،ص۹۳) ۲؎ (مجمع الزوائد،کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ،ج۳،ص۱۱۰)