تعالیٰ اس کی عزّت ہی بڑھاتا ہے يعنی دنيا ميں اس طرح عزّت افزائی ہوتی ہے کہ لوگوں کے دلوں ميں اس کے لئے محبت پيدا فرمادی جاتی ہے اور دنيا ميں تواضع کے باعث آخرت ميں بھی اس کے لئے بلندیئ مرتبت کا مژدہ ہے۔ علامہ قرطبی نے فرمايا کہ تواضع اللہ تعالیٰ يا اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی رضا کی خاطر يا حاکم عادل يا عالِم صالح کے لئے ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ دنيا و آخرت ميں بلندیئ درجات عطا فرمائے گا اور اگر دیگر لوگوں کے ساتھ انکساری سے پيش آئے گا اور اگر اس صورت ميں اللہ کی رضا مقصود ہوگی تو اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں ميں اس کی قدر بڑھائے گا اور ان کی زبانوں کو اس کی تعريف سے سرشار کردے گا اور آخرت ميں بھی اس کو فراز حاصل ہوگا۔ اور جو فقط دنيا، دکھاوے اور رياکاری کی غرض سے تواضع اختيار کریگا تو دنيا و آخرت ميں اس کے لئے کوئی اعزاز نہيں۔۱؎ (ملخصاً)
انکساری جو خود داری کے ساتھ ہو وہ بڑی بہتر ہے اس کا انجام بلندیئ درجات ہے مگر بے عزّتی کی انکساری، انکساری نہيں بلکہ احساس پستی ہے، جہاد ميں کفر کے مقابل فخر کرنا عبادت ہے ، مسلمان بھائی کے سامنے جھکنا ثواب :