Brailvi Books

ضیائے صدقات
183 - 408
    حدیث کے اس حصہ '' صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا''کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، ''زکوٰۃ دينے والے کی زکوٰۃ ہر سال بڑھتی ہی رہتی ہے تجربہ ہے جو کسان کھيت ميں بيج پھينک آتا ہے وہ بظاہر بورياں خالی کرليتا ہے لیکن حقیقت ميں مع اضافہ کے بھر ليتا ہے، گھر کی بورياں چوہے، سُسری وغيرہ کی آفات سے ہلاک ہوجاتی ہيں يا يہ مطلب ہے کہ جس مال ميں سے صدقہ نکلتا رہے اس ميں سے خرچ کرتے رہو، ان شاء اللہ بڑھتا ہی رہے گا، کنوئيں کا پانی بھرے جاؤ، تو بڑھے ہی جائے گا۱؎۔

    امام جلال الدين سيوطی شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں، عزت بڑھانے سے مراد يہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں ميں اس کا مقام بلند کردے گا۔۲؎

     علامہ زرقانی نے فرمايا، عزت بڑھانے سے مراد يہ ہے کہ دنيا ميں جو کوئی اسے جانتا ہوگا خندہ پيشانی سے ملے گا اور ملنے والوں کے دلوں ميں اس کی عزت بھی ہوگی نيز آخرت ميں عزّت افزائی سے مراد زيادتیئ ثواب ہے اور حديث شريف ميں فرمايا کہ جو بندہ اللہ کی رضا کی خاطر انکساری اختيار کرتا ہے يعنی غلام کی طرح اس کی بندگی کرتا ہے، اس کے احکام کی بجا آوری کو معمول بناليتا ہے اور ممنوعات سے اجتناب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ لوگوں ميں اس کی تعظیم و توقير بڑھاتا ہے۔ (حديث شريف ميں) لفظِ عَبْد (يعنی بندہ) فرمانے ميں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے آگے اس کی شان غلام ہی کی سی ہے۔ تو جو اللہ کی رضا کی خاطر انکساری کرتا ہے تو اللہ
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابيح، ج۳،ص۹۳)

۲؎ (تنوير الحوالک شرح علی المؤطا للإمام مالک، تحت الحديث المذکور، ص۷۲۲)
Flag Counter