| ضیائے صدقات |
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے! راہ خدا عزوجل میں دی جانے والی چیز ہرگز ضائع نہیں ہوتی آخرت میں اجر وثواب کی حق داری تو ہے ہی، بعض اوقات دنیا میں بھی اضافے کے ساتھ ہاتھوں ہاتھ اس کا نعم البدل عطا کیا جاتا ہے۔ ۱؎
راہ خدا عزوجل میں دینے سے بڑھتا ہے گھٹتا نہیں جیسا کہ حديث شريف ميں ہے:عَنْ أَبِيْ ھُرَيرۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''مَا نَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِّنْ مَّالٍ، وَمَا زَادَ اللہُ عَبْداً بِعَفْوٍ إِلَّا عِزّاً، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلّٰہِ إِلَّا رَفَعَہُ اللہُ عَزَّوَجَلَّ''.۲؎
حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا،صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے کی وجہ سے بندے کی عزت ہی بڑھاتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر انکساری کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بلندی عطا فرماتا ہے۔
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
۱؎ (فیضان سنت،باب آداب طعام،ج۱،ص۴۰۴)
۲؎ (صحيح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب استحباب العفو والتواضع، الحديث: ۶۹۔(۲۵۸۸)،ص۱۰۰۲)
(سنن الترمذي،کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء في التواضع، الحديث:۲۰۲۹،ج۳، ص۱۲۵۔۱۲۶)
(سنن الدارمي، کتاب الزکاۃ، باب في فضل الصدقۃ، الحديث: ۱۶۷۶،ص۴۹۲)
(المؤطا للإمام مالک، کتاب الصدقۃ، باب ما جاء في التعفف عن المسألۃ، الحديث: (۱۸۸۵)۔۲،ص۵۸۸،۱)
(مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ، الفصل الأول،الحديث: ۱۸۸۹،ج۱،ص۳۵۹)