يہ شخص اپنی عمر پوری کرنے سے ايک روز قبل باہر نکلا اور ايک مسکين کو پايا اس نے اس مسکين کو بيس درہم دئيے تو اُس مسکين نے دعا دی کہ اللہ تعالیٰ تيری عمر ميں برکت فرمائے پس اُس کی دعا قبول کرلی گئی اور ميں نے اُسے ہر درہم کے بدلے ايک ايک سال عطا فرماديا۔۱؎
شیخِ طریقت ،امیراہل سنت، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی دامت برکاتہم العالیۃ اپنی شہرہ آفاق کتاب ''فیضان سنت'' میں صدقہ کی فضیلت میں لکھتے ہیں:
حضرت سیدنا حبیب عجمی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے دروازے پر ایک سائل نے صدا لگائی۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زوجہ محترمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا گندھا ہواآٹا رکھ کر پڑوس سے آگ لینے گئی تھیں تاکہ روٹی پکائیں۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے وہی آٹا اٹھا کر سائل کو دے دیا۔ جب وہ آگ لے کر آئیں تو آٹا ندارد (یعنی غائب)۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا،اسے روٹی پکانے کے ليے لے گئے ہیں۔ بہت پوچھا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خیرات کر دینے کا واقعہ بتایا،وہ بولیں سبحان اللہ! یہ تو بہت اچھی بات ہے مگر ہمیں بھی تو کچھ کھانے کے ليے درکار ہے اتنے میں ایک شخص ایک بڑی لگن میں بھر کر گوشت اور روٹی لے آیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا دیکھو تمہیں کس قدر جلد لوٹا دیا گیا گویا روٹی بھی پکا دی اور گوشت کا سالن مزید بھیج دیا! (روض الریاحین،ص۱۵۲) اللہ عزوجل کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔