| ضیائے صدقات |
مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗ وَلَہٗۤ اَجْرٌ کَرِیۡمٌ ﴿۱۱﴾
ترجمہ کنزالایمان:کون ہے جو اللہ کو قرض دے اچھا قرض تو وہ اس کے لئے دونے کرے اور اس کو عزت کا ثواب ہے۔(الحديد:۵۷/۱۱)
يعنی خوشدلی سے اللہ کی راہ ميں خرچ کرے اس اِنفاق کو اس مناسبت سے قرض فرمايا گيا کہ اس پر جنّت کا وعدہ فرمايا گيا ہے۔۱؎
اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ ميں مسلمانوں سے اپنا محبوب ترين مال خرچ کرنے کے متعلق ارشاد فرمايا، چنانچہ فرمان ہے:لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ ۬ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَیۡءٍ فَاِنَّ اللہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ ﴿۹۲﴾
ترجمہ کنزالایمان:تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہ خدا ميں اپنی پياری چيز نہ خرچ کرو اور تم جو کچھ خرچ کرو اللہ کو معلوم ہے۔ (اٰل عمران:۳/۹۲)
بِرّ سے تقویٰ وطاعت مراد ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمايا کہ يہاں خرچ کرنا عام ہے تمام صدقات کا يعنی واجبہ ہوں يا نافلہ سب اس ميں داخل ہيں حسن کا قول ہے کہ جو مال مسلمانوں کو محبوب ہو اور اُسے رضائے الٰہی کے لئے خرچ کرے وہ اس آيت ميں داخل ہے خواہ ايک کھجور ہی ہو (خازن) عمر بن عبد العزيز شکر کی بورياں خريد کر صدقہ کرتے تھے اُن سے کہا گيا اس کی قیمت ہی کيوں نہيں
صدقہ کرديتے فرمايا شکر مجھے محبوب ومرغوب ہے يہ چاہتا ہوں کہ راہِ خدا ميں پياریمدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (خزائن العرفان)