Brailvi Books

ضیائے صدقات
178 - 408
جائز نہيں (جمل وغيرہ)۔ ۱؎

    اور راہِ خدا عزوجل ميں اخلاص کے ساتھ خرچ کرنے والے کے لئے بشارت ہے کہ اس کا مال ضائع نہيں ہوتا، اور اس ضمانت کو يوں بيان فرمايا کہ خرچ کئے ہوئے مال کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی جانب قرضِ حسن سے موسوم فرمايا:
مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗۤ اَضْعَافًا کَثِیۡرَۃً ؕ وَاللہُ یَقْبِضُ وَیَبْصُۜطُ ۪ وَ اِلَیۡہِ تُرْجَعُوۡنَ ﴿۲۴۵﴾
ترجمہ کنزالایمان:ہے کوئی جو اللہ کو قرض حسن دے تو اللہ اس کے لئے بہت گُنا بڑھا دے اور اللہ تنگی اور کشائش کرتا ہے اور تمہيں اسی کی طرف پھر جانا .(البقرۃ:۲/۲۴۵)

    يعنی راہِ خدا ميں اخلاص کے ساتھ خرچ کرے راہِ خدا ميں خرچ کرنے کو قرض سے تعبير فرمايا يہ کمال لطف وکرم ہے بندہ اسکا بنايا ہوا اور بندے کا مال اس کا عطا فرمايا ہوا حقیقی مالک وہ اور بندہ اس کی عطا سے مجازی مِلک رکھتا ہے مگر قرض سے تعبير فرمانے ميں يہ دل نشين کرنا منظور ہے کہ جس طرح قرض دينے والا اطمينان رکھتا ہے کہ اس کا مال ضائع نہيں ہوا وہ اس کی واپسی کا مستحق ہے ايسا ہی راہِ خدا ميں خرچ کرنے والے کو اطمينان چاہے کہ وہ اس اِنفاق کی جزا بالیقين پائے گا اور بہت زيادہ پائے گا۔۲؎

    ايک اور مقام پر فرمايا:
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (خزائن العرفان)

۲؎ (خزائن العرفان)
Flag Counter