Brailvi Books

ضیائے صدقات
174 - 408
    جہاں تک پہلی بات يعنی ہديہ کا تعلق ہے تو اسے لينے ميں کوئی حرج نہيں کيوں کہ ہديہ قبول کرنا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے ليکن دينے والے کا مقصد احسان جتانا نہ ہو کيونکہ اگر احسان کے طور پر ديا تو (لينے والے کے لئے) ایسی چيز لينے سے چھوڑ دينا بہتر ہے اور اگر معلوم ہو کہ اس ميں سے بعض مال پر احسان جتايا جارہا ہے بعض پر نہيں تو اُن بعض کو لوٹا دے جو بطور احسان دئيے جارہے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ ميں گھی، پنير اور مينڈھا ہديۃ پيش کئے گئے تو آپ نے گھی اور پنير قبول فرمالئے اور مينڈھا لَوٹا ديا۔۱؎

    امام اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا خان عليہ رحمۃ الرحمن متوفی ۱۳۴۰؁ھ فضائلِ صدقات کی احادیث ذکر فرماکر ان فضائل کا پچیس نِکات ميں اس طرح احاطہ فرماتے ہيں:

    ان حديثوں سے ثابت ہوا کہ جو مسلمان اس عمل ميں نيک نيت پاک مال سے شريک ہوں گے انہيں کرمِ الٰہی و انعام حضرت رسالت پناہی تعالیٰ ربہ، وتکرّم وصلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم سے پچیس فائدے ملنے کی اُميد ہے:

(۱) بِاِذْنِہٖ تَعَالٰی بُری موت سے بچيں گے، ستّر دروازے بُری موت کے بند ہوں گے۔

(۲) عُمريں زیادہ ہوں گی۔

(۳) ان کی گنتی بڑھے گی۔
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (إحياء علوم الدين،کتاب الفقر والزھد،بيان آداب الفقير في قبول العطاء إذاجاء ہ بغیرسؤال، ج۴،ص۲۷۶)
Flag Counter