(۴) رزق کی وسعت مال کی کثرت ہوگی، اس کی عادت سے کبھی محتاج نہ ہوں گے۔
(۵) خير و برکت پائيں گے۔
(۶) آفتيں بلائيں دور ہوں گی، بری قضا ٹلے گی، ستر دروازے برائی کے بند ہوں گے، ستر قسم کی بلا دور ہوگی۔
(۷) ان کے شہر آباد ہوں گے۔
(۸) شکستہ حالی دور ہوگی۔
(۹) خوفِ انديشہ زائل اور اطمينان خاطرحاصل ہوگا۔
(۱۰) مدد الٰہی شامل ہوگی۔
(۱۱) رحمتِ الٰہی ان کے ليے واجب ہوگی۔
(۱۲) ملائکہ اُن پر درود بھیجيں گے۔
(۱۳) رضائے الٰہی کے کام کريں گے۔
(۱۴) غضب الٰہی ان پرسے زائل ہوگا۔
(۱۵) ان کے گناہ بخشے جائيں گے، مغفرت ان کے لئے واجب ہوگی، اُن کے
گناہوں کی آگ بجھ جائے گی۔
(۱۶) خدمتِ اہل دين ميں صدقہ سے بڑھ کر ثواب پائيں گے۔
(۱۷) غلام آزاد کرنے سے زيادہ اجر ليں گے۔
(۱۸) ان کے ٹيڑھے کام درست ہوں گے۔
(۱۹) آپس ميں محبتيں بڑھيں گی جو ہر خير و خوبی کی مُتّبع ہيں۔