Brailvi Books

ضیائے صدقات
173 - 408
    حضرت جنيد بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ سے عرض کی گئی کہ فلاں دکاندار کنگال ہوگيا ہے اور دُکان چھوڑنے کا ارادہ رکھتا ہے تو حضرت جنيد بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے انہيں کچھ مال بھیجا اور کہلوايا کہ يہ مال استعمال کريں اور دُکان بند نہ کريں کيوں کہ تجارت آپ جيسے لوگوں کے لئے نقصان دِہ نہيں۔ در اصل وہ شخص سبزی بیچ تا تھا اور صوفياء فقراء سے ان کے خريدے ہوئے مال کی قيمت نہ ليتا۔۱؎

    حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ (جو امام اعظم ابو حنيفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ کے خاص شاگرد اور فقہ حنفی کے آئمہ سے ہيں) اہلِ علم لوگوں کے ساتھ خاص طور پر بھلائی کرتے، ان سے عرض کی گئی: آپ سب کے ساتھ ايک سا معاملہ کيوں نہيں رکھتے؟ فرمايا ميں انبياء کے بعد(عام لوگوں سے نہ کہ صحابہ سے) علماء کے سوا کسی کے مقام کو بلند نہيں جانتا، ايک بھی عالم کا دھيان اپنی حاجات کی وجہ سے بٹے گا تو وہ صحيح طور پر خدمتِ دين نہ کرسکے گا اور دينی تعليم پر اس کی درست توجہ نہ ہوسکے گی۔ لہٰذا انہيں علمی خدمت کے لئے فارغ کرنا افضل ہے۔۲؎

    امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ فرماتے ہيں: دينے والے کی غرض ان باتوں کے سوا نہيں ہوتی کہ اس کا مقصد يا تو فقير کا دل خوش کرنا اور اس کی محبت کا حصول ہوتاہے اس صورت ميں يہ دينا ہديہ ہوگا، یا اس کا مقصد حصولِ ثواب ہوتاہے اس صورت میں یہ صدقہ يا زکوٰۃ ہوگا يا پھر اس کا مقصد شہرت اور ريا کاری ہوگی، پھر يا تو صرف يہی (ريا ودکھاوا) مقصود ہوتا ہے يا اس ميں دوسری (مذکورہ بالا) اغراض بھی شامل ہوتی ہیں۔
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (مکاشفۃ القلوب،ص۴۱۶۔۴۱۷)

۲؎    (مکاشفۃ القلوب، ص۴۱۷)
Flag Counter