کہ وہ دونوں روٹياں لے جائے، پھر وہ راہب مرگيا، تو اس کی ساٹھ سالہ عبادت کا اس زنا سے موازنہ کیا گیا تو وہ زنا اس کی نيکيوں پر غالب ہوگيا پھر اس کی نیکیوں کے پلڑے میں وہ ايک يا دو روٹياں (جو اس نے سائل کو صدقہ کی تھيں ) رکھی گئيں تو اسکی نيکياں غالب آگئيں اور (بفضل اللہ) اسکی مغفرت فرمادی گئی۔
صدقہ دينے ميں بہتر يہ ہے کہ نيک پرہيزگار فقراء میں سے کسی کو دے، چنانچہ، امام غزالی نقل کرتے ہيں کہ ايک عالِم کا معمول تھا کہ وہ صدقہ دينے ميں صوفی فقراء کو ترجيح ديتے۔ ان سے عرض کی گئی کہ آپ اگر عام فقراء کو صدقہ ديں تو کيا وہ افضل نہيں؟ جواب ديا: يہ نيک لوگ ہر وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر و فکر ميں رہتے ہيں اگر ان پر فاقہ يا کوئی مصيبت آئے تو ان کے مشاغل ميں خلل آئے گا لہٰذا ميرے نزديک دنيا کے ہزار طلبگاروں کو دينے سے بہتر ہے کہ ايک سچے ديندار کو دوں۔
جب حضرت جنيد بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ کو يہ بات بتائی گئی تو آپ نے اسے پسند فرمايا اور فرمايا کہ يہ شخص اللہ کے وليوں ميں سے ہے، ميں نے آج تک اتنی اچھی بات نہ سُنی تھی۔