Brailvi Books

ضیائے صدقات
170 - 408
''لَوْ شَاءَ رَبُّ ھٰذِہِ الصَّدَقَۃِ تَصَدَّقَ بِأَطْيب مِنْ ھٰذَا، إِنَّ رَبَّ ھٰذِہِ الصَّدَقَۃِ ياکُلُ حَشَفاً يومَ الْقِيامَۃِ''.۱؎
اس خوشہ کو لاٹھی سے مارنے لگے اور فرمايا: اگر يہ صدقہ کرنے والا چاہتا تو اس سے بہتر صدقہ کرتا بے شک یہ صدقہ کرنے والا بروزِ قيامت ردی کھجوريں کھائے گا۔

    بنی اسرائیل میں سے ایک شخص اور اس کے اہل نے تین دن تک کھانے کے ليے کچھ نہ پایا پھر اس کی زوجہ نے اسے ایک درہم دیا تاکہ وہ اس سے کھانا خریدے جب وہ باہر نکلا تو اس نے ایک شخص کو دوسرے سے اپنے درہم کا مطالبہ کرتے ہوئے پایا۔ اس نے اپنا درہم اس کو دے دیا۔ اور آکر اپنی بيوی کو بتايا تو اس نے کہا آپ نے اچھا کيا پھر اس نے اپنے شوہر کو اُون کاتنے کا تکلا ديا تو اسے شوہر نے بیچ ا اور اس سے ايک مچھلی خريدی جس میں سے ايک موتی نکلا اس نے وہ موتی کثير مال کے بدلے بیچ ا پھر ايک روز اس کے پاس ايک سائل آيا تو اس شخص نے کہا: يہ لو ميرا آدھا مال لے لو تو اس سائل نے کہا: تمہیں مبارکباد ہو تم اپنا مال اپنے پاس ہی رکھو ميں تو ايک فرشتہ ہوں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے اُس ايک درہم کے ہر قيراط کے بدلے سو قيراط مقرر فرمائے ہيں اور (تمہاری یہ دولت) ان میں سے ايک ہی قيراط ہے جو تمہيں دنيا ميں ملی ہے ۔۲؎
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (سنن أبي داود،کتاب الزکاۃ،باب ما لا ےجوز من الثمرۃ في الصدقۃ،الحديث:۱۶۰۸،ج۲،ص۱۷۸)

(سنن ابن ماجہ،کتاب الزکاۃ،باب النھي أن يخرج في الصدقۃ شرّ مالہ،الحديث:۱۸۲۱،ج۲، ص۴۰۰)

(سنن النسائي،کتاب الزکاۃ، باب قولہ عزوجل: (وَلَا تَيمَّمُوا الْخَبِيث مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ)،الحديث:۲۴۹۲، ج۳، الجزئ۵،ص۴۶)

۲؎    (نزھۃ المجالس، باب في فضل الصدقۃ...إلخ،ج۲،ص۱۵)
Flag Counter