| ضیائے صدقات |
پچاس سال ہے اور اگر نيکياں کرے تو اس کی عمر سو سال، يہ زيادتی عمر ایسی ہی ہے جيسے کہا جاتا ہے کہ دوا مرض دفع کرتی ہے۔۱؎
ايک اور حديث شريف ميں ہے:عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''إِنَّ صَدَقَۃَ الْمُسْلِمِ تَزِيد فِي الْعُمْرِ، وَتَمْنَعُ مِيتۃَ السُّوْءِ، وَيذْھِبُ اللہُ الْکِبْرَ وَالْفَخْرَ''.۲؎
حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں: نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو بر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: بے شک مسلمان کا صدقہ عمر بڑھاتا ہے اور بُری موت کو روکتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے صدقہ دینے والے سے تکبر وتفاخر دور کردیتا ہے۔
ايک اور حديث شريف ميں بيان فرمايا:عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَبِيدہِ عَصاً، وَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ قُنْوَ حَشَفٍ، فَجَعَلَ يطْعَنُ فِيْ ذٰلِکَ الْقُنْوِ، فَقَالَ:
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں: حضورپاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دستِ اقدس ميں لاٹھی لئے تشريف لائے تو دیکھا کہ ايک شخص نے (غرباء کے لئے بطور صدقہ) ردی کھجوروں کا ایک خوشہ لٹکا رکھا ہے، آپ
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابيح،ج۵،ص۱۶۷) ۲ ؎ (المعجم الکبير للطبراني،الحديث:۳۱،ج۱۷،ص۲۲)