Brailvi Books

ضیائے صدقات
168 - 408
   حديث شريف ميں ہے:
 وَعَنْ رَافِعِ بْنِ مَکِيث، رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''حُسْنُ الْمَلَکَۃِ یُمْنٌ وَسُوْءُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ وَالصَّدَقَۃُ تَمْنَعُ مِیْتَۃَ السُّوْءِ، وَالْبِرُّ زِیَادَۃٌ فِي الْعُمْرِ''. اللفظ للمشکاۃ ۱؎
حضرت رافع بن مکيث سے روایت ہے کہ شہنشاہ مدینہ، قرار قلب وسینہ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول سکینہ، فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: خوش خلقی برکت ہے اور بدخلقی نحوست اور صدقہ بری موت سے بچاتا ہے اورنيکی عمر بڑھاتی ہے۔

    اس حدیث کی شرح میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:اس کا تجربہ بارہا ہوا کہ خوش خُلق کی دنيا دوست ہوتی ہے بد خُلق کے سب دشمن، گھر والے بھی اور باہر والے بھی، خوش خُلق کی گھر وباہر والے سب تعظيم اور خدمت کرتے ہيں، بدخُلق ہر جگہ سزا ہی پاتا ہے يہاں برکت ونحوست سے يہ ہی مراد ہے۔۲؎

    ''صدقہ بری موت سے بچاتا ہے''اس کی شرح میں حکیم الامت فرماتے ہیں:يعنی سخی آدمی اچانک اور غفلت کی موت سے يوں ہی بے صبری و فسق و فجور وظلم کی موت سے محفوظ رہتا ہے ان شاء اللہ، اس کی موت ذکر و فکر نيک اعمال کی حالت ميں آتی ہے بعد موت لوگ اُسے اچھائی سے ياد کرتے ہيں، يوں ہی نيکياں عمر بڑھاتی ہيں اس طرح کہ حکم الٰہی يوں ہے کہ فلاں بندہ اگر گناہ و بدکاری کرتا رہے تو اس کی عمر
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (سنن أبي داود، کتاب الأدب، باب في حق المملوک،الحديث:۵۱۶۲،ج۵،ص۲۲۷)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب النکاح، باب النفقات وحق المملوک، الحديث:۳۳۵۹،ج۱،ص۶۱۶)

۲؎    (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابيح،ج۵،ص۱۶۷)
Flag Counter