Brailvi Books

ضیائے صدقات
167 - 408
    ايک اور حديث ميں ہے:
عَنِ الْحَارِثِ الْأَشْعَرِيِّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''إِنَّ اللہَ أَمَرَ يحیَی بْنَ زَکَرِيا عَلَیھمَا الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ أَنْ يعْمَلَ بِھَا وَيامُرَ بَنِيْ إِسْرَاءِيل أَنْ يعْمَلُوْا بِھَا''، فَذَکَرَ الْحَدِيث إِلٰی أَنْ قَالَ فِيہ: ''وَآمُرُکُمْ بِالصَّدَقَۃِ، وَإِنَّ مَثَلَ ذٰلِکَ کَمَثَلِ رَجُلٍ أَسَرَہُ الْعَدُوُّ، فَأَوْثَقُوْا يدہُ إِلٰی عُنُقِہِ، وَقَدَّمُوْہُ لِيضْرِبُوْا عُنُقَہُ فَقَالَ: أَنَا أَفْدِیْہِ مِنْکُمْ بِالْقَلِيل وَالْکَثِير فَفَدٰی نَفْسَہُ مِنْھُمْ''. (الحديث)۱؎
حضرت حارث اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آقائے مظلوم، سرور معصوم، حسن اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، محبوب ر ب اکبر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: بے شک اللہ تعالیٰ نے (اپنے نبی) حضرت يحییٰ بن زکريا عليہما الصلوٰۃ والسلام کو پانچ باتوں کا حکم دیاکہ ان پر وہ خود بھی عمل کريں اور بنی اسرائيل کو بھی عمل پيرا ہونے کا حکم دیں۔ سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان باتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت یحییٰ علیہ السلام کا یہ فرمان بھی ذکر فرمایا اور ميں تمہيں صدقہ کرنے کا حکم ديتا ہوں بے شک اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جسے دشمن نے قيد کرليا، پھر اس کے ہاتھ گردن سے باندھ دئيے اور اُسے گردن مارنے کے لئے آگے کيا تو اس نے کہا: ميں تمہيں اپنا قليل وکثير سب فديہ کے طور پر ديتا ہوں (کہ تم مجھے چھوڑ دو) اور اس طرح اس نے فدیہ دے کر خود کو ان سے چھڑا لیا۔
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (سنن الترمذي،کتاب الأمثال،باب ما جاء في مثل الصلاۃ والصيام والصدقۃ، الحديث:۲۸۶۳، ج۳،ص۵۷۲)
Flag Counter