| ضیائے صدقات |
رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''بَاکِرُوْا بِالصَّدَقَۃِ، فَإِنَّ الْبَلَاءَ لَا يتخَطَّی الصَّدَقَۃَ''.۱؎
مخزنِ جود وسخاوت، پیکر عظمت وشرافت، محبوب رب العزت،محسن انسانیت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: صبح سویرے صدقہ دو کہ بلا صدقہ سے آگے قدم نہیں بڑھاتی۔
ايک شخص حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ ميں حاضر ہوکر کہنے لگا کہ ميرا بیٹا سمندری سفر پر گيا ہے آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے دعا فرمائيں توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:اس کی طرف سے صدقہ دو۔ اس وقت سمندر ميں موجيں اُٹھ رہی تھيں اور جہاز ڈوبنے کے قريب تھا، جب اس شخص نے اس کی طرف سے صدقہ ديا تو ايک کہنے والے کویہ کہتے سُنا گیا: اے سوارو! تمہارے لئے سلامتی ہے بے شک اللہ تعالی نے فدیہ قبول فرماليا۔ جب بیٹا سفر سے لوٹا تو والد صاحب کو تمام قصہ بيان کيا۔۲؎
حديث شريف ميں ہے:عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''تَصَدَّقُوْا، فَإِنَّ الصَّدَقَۃَ فِکَاکُکُمْ مِنَ النَّارِ''.۳؎
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں، سرکاروالا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روزشمار، دو عالم کے مالک ومختار، حبیب پروردگار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: صدقہ ديا کرو بے شک صدقہ تمہارے لئے جہنم سے بچاؤ کا ذريعہ ہے۔
مدینـــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (شُعَبُ الإيمان، باب في الزکاۃ،التحريض علی صدقۃ التطوع،الحديث:۳۳۵۳،ج۳،ص۲۱۴) ۲؎ (نزھۃ المجالس، باب في فضل الصدقۃ...إلخ،ج۲،ص۱۴) ۳؎ (شُعَبُ الإيمان،باب في الزکاۃ،التحريض علی صدقۃ التطوع،الحديث:۳۳۵۵ج۳،ص۲۱۴)