حضرت سیدنا منصور بن عمار علیہ رحمۃ الغفار نے ہاتھ اٹھا کر دعا فرمادی ۔ غلام اپنے آقا کے پاس دیر سے پہنچا، آقانے سببِ تاخیر دریافت کیا تو اس نے واقعہ کہہ سنایا۔ آقا نے پوچھا پہلی دعا کون سی تھی، غلام بولا میں نے عرض کیا دعا کیجئے میں غلامی سے آزاد کر دیا جاؤں،یہ سن کر آقا کی زبان سے بے ساختہ نکلا ''جا تو غلامی سے آزاد ہے۔'' پوچھا دوسری دعا کون سی کروائی، کہا جو چار درہم میں نے دے دیئے ہیں اس کا نعم البدل مل جائے آقا بول اٹھا میں نے تجھے چار درہم کے بدلے چار ہزار درہم دیئے۔ پوچھا تیسری دعا کیا تھی، بولا مجھے اور میرے آقا کو گناہوں سے توبہ کی توفیق نصیب ہو جائے۔ یہ سنتے ہی آقا کی زبان پر استغفار جاری ہوگیا اور کہنے لگا میں اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں۔ چوتھی دعا بھی بتا دو کہا میں نے التجا کی کہ میری، میرے آقا کی آپ جناب کی اور تمام حاضرینِ اجتماع کی مغفرت ہو جائے یہ سن کر آقا نے کہا تین باتیں جو میرے اختیار میں تھیں وہ کرلی ہیں چوتھی سب کی مغفرت والی بات میرے اختیار سے باہر ہے۔ اسی رات آقا نے خواب میں کسی کہنے والے کو سنا جو تمہارے اختیار میں تھا وہ تم نے کردیا اور میں ارحم الراحمین ہوں، میں نے تمہیں تمہارے غلام کو منصور کو اور تمام حاضرین کو بخش دیا۔ ۱؎
حديث شريف ميں ہے: