Brailvi Books

ضیائے صدقات
160 - 408
عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''کُلُّ امْرِيٍئ فِيْ ظِلِّ صَدَقَتِہِ حَتّٰی یقْضٰی بَين النَّاسِ أَوْقَالَ یُحْکَمَ بَیْنَ النَّاسِ''. قَالَ يزِيد: وَکَانَ أَبُو الْخَير یَعْنِيْ: لَا یَأْتِيْ عَلَیْہِ يومٌ إِلَّا تَصَدَّقَ فِيہ، وَلَوْ بِکَعْکَۃٍ أَوْ بِبَصَلَۃً.۱؎
حضرت عقبہ بن عامر سے مروی ہے کہ شہنشاہ مدینہ، قرار قلب وسینہ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول سکینہ، فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر شخص (بروز قیامت) اپنے صدقہ کے سائے ميں ہوگا يہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ فرماديا جائے۔ يزيد کہتے ہیں: ابوالخير کا معمول تھا کہ روزانہ بلاناغہ کچھ نہ کچھ صدقہ فرماتے اگرچہ روٹی کا ٹکڑا يا پياز صدقہ کرکے۔

    حضرت یزید بن ابو حبیب سے مروی ہے کہ حضرت مرثد بن ابو عبد اللہ يزنی اہل مصر میں سے وہ پہلے شخص تھے جو شام کے وقت مسجد میں جایا کرتے تھے۔ راوی فرماتے ہيں کہ ميں آپ کو جب بھی مسجد جاتے ديکھتا تو آپ کے ہاتھ میں صدقہ کرنے کے لئے پيسے يا روٹی يا گيہوں کچھ نہ کچھ ہوتا حتی کہ بسا اوقات میں انہیں پیاز اٹھائے ہوئے بھی دیکھتاتو میں کہتاکہ اے ابو الخیر! یہ پیاز آپ کے کپڑوں کو بدبودار کردیگاتو آپ فرماتے: اے ابوحبيب کے بیٹے! ميں اپنے گھر ميں اس کے سوا اور کوئی
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎     (المسند للإمام أحمد بن حنبل، مسند عقبۃ بن عامر،الحديث:۱۷۴۶۶،ج۵،ص۸۹۵)

(السنن الکبری للبیھقي،کتاب الزکاۃ، جماع أبواب صدقۃ التطوع، باب التحریض علی الصدقۃ وإن قلت، الحديث:۷۷۵۱،ج۴،ص۲۹۷)

(شُعَبُ الإيمان، باب في الزکاۃ،التحریض علی صدقۃ التطوع،الحديث:۳۳۴۸،ج۳ص۲۱۲)
Flag Counter