Brailvi Books

ضیائے صدقات
161 - 408
چيز نہيں پاتا کہ جسے صدقہ کروں، مجھے ايک صحابیئ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بيان کيا کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحروبرصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: ''مومن کا دیاہواصدقہ بروز قیامت اس پر سایہ ہوگا''۔۱؎

    صدقہ دينے والوں کے لئے قبر کی گرمی سے حفاظت اور بروزِ قیامت حصولِ سایہ رحمت کی بشارت ہے۔ چنانچہ حديث شريف ميں ہے:
عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''إِنَّ الصَدَقَۃَ لَتُطْفِيئُ عَنْ أَھْلِھَا حَرَّ الْقُبُوْرِ، وَإِنَّمَا یسْتَظِلُّ الْمُؤْمِنُ يومَ الْقِيامَۃِ فِيْ ظِلِّ صَدَقَتِہِ''.۲؎
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں: حضورپاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: بے شک صدقہ کرنے والوں کو صدقہ قبر کی گرمی سے بچاتا ہے، اور بلاشبہ مسلمان قيامت کے دن اپنے صدقہ کے سائے ميں ہوگا۔

    ايک اور حديث شريف ميں ہے:
رُوِيَ عَنْ مَيموْنَۃَ بِنْتِ سَعْدٍ أَنَّھَا قَالَتْ: يا رَسُوْلَ اللہِ أَفْتِنَا عَنِ الصَّدَقَۃِ؟ فَقَالَ: ''إِنَّھَا حِجَابٌ مِنَ النَّارِ لِمَنِ احْتَسَبَھَا يبتَغِيْ بِھَا وَجْہَ اللہِ عزوجل ''.۳؎
حضرت ميمونہ بنت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ آپ نے عرض کی: يا رسول اللہ! صدقہ کے بارے ميں ہماری راہ نمائی فرمائیے! فرمايا: جو اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر صدقہ کرے تو وہ (صدقہ) اس کے اور آگ کے درميان پردہ بن جاتا ہے۔
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (الترغيب والترھيب،کتاب الصدقات،الترغيب في الصدقۃ والحث علیھا...إلخ،الحديث:۲۸،ج۲،ص۱۱)

۲؎    (شُعَبُ الإيمان، باب الزکاۃ، التحریض علی صدقۃ التطوع،الحديث:۳۳۴۷،ج۳،ص۲۱۲)

۳؎    (مجمع الزوائد،کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ،ج۳،ص۱۱۱)
Flag Counter