يہ اللہ والوں کی شان ہے کہ سائل کو تہی دست نہيں لوٹاتے اگرچہ دينے کے بعد کچھ بھی نہ بچے اسی کو جُود کہتے ہيں۔ يہی وجہ ہے کہ ان کے توکل کے سبب اللہ تعالیٰ انہيں بہتر سے بہتر عطا کرتا ہے۔
اپنے دور کے ابدال حضرت سیدنا ابو جعفر بن خطاب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: میرے دروازے پر ایک سائل نے صدا لگائی میں نے زوجہ محترمہ سے پوچھا: تمہارے پاس کچھ ہے؟ جواب ملا: چار انڈے ہیں۔ میں نے کہا: منگتا کو دے دو۔ انہوں نے تعمیل کی۔ سائل انڈے پاکر چلا گیا۔ ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ میرے پاس ایک دوست نے انڈوں سے بھری ہوئی ٹوکری بھیجی۔ میں نے گھر میں پوچھا: اس میں کل کتنے انڈے ہیں؟ انہوں نے کہا: تیس۔ میں نے کہا:تم نے توفقیر کو چار انڈے دیئے تھے، یہ تیس کس حساب سے آئے! کہنے لگیں: تیس انڈے سالم ہیں اور دس ٹوٹے ہوئے۔ حضرت سیدنا شیخ علامہ یافعی یمنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: بعض حضرات اس حکایت کے متعلق یہ بیان کرتے ہیں کہ سائل کو جو انڈے دیئے گئے تھے ان میں تین سالم اور ایک ٹوٹا ہوا تھا۔ رب تعالیٰ نے ہر ایک کے بدلے دس دس عطا فرمائے۔ سالم کے عوض سالم اور ٹوٹے ہوئے کے بدلے ٹوٹا ہوا۔۱؎