| ضیائے صدقات |
پر گناہوں کے دروازے بہت کھل جاتے ہيں وہ مال کے نشہ ميں نہ کرنے والے کام کرتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ عثمانی مال دے ابو جہلی مال سے بچائے۔ (آمين)
''ان دونوں کا گناہ برابر ہے''اس کی تشریح میں حکیم الامت رقم طراز ہیں: یعنی یہبدنصيب بغير کچھ کئے سب کچھ کررہا ہے کرنے والوں کے ساتھ دوزخ ميں جارہا ہے۔۱؎عَنْ عَاءِشَۃَ رَضِيَ اللہُ عَنْھَا أَنَّ مِسْکِيناً سَأَلَھَا وَھِيَ صَاءِمَۃٌ، وَلَیْسَ فِيْ بَيتھَا إِلَّا رَغِيف، فَقَالَتْ لِمَوْلَاۃٍ لَّھَا: أَعْطِیہ إِياہُ، فَقَالَتْ: لَیسَ لَکِ مَا تُفْطِرِين عَلَيہ، فَقَالَتْ: أَعْطِیہِ إِياہُ. قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَمَّا أَمْسَيناحَتّی أَھْدٰی لَھَا أَھْلُ بَيۡتٍ، أَوْ إِنْسَانٌ مِمَّن کَانَ یَھْدِيْ لَنَا شَاۃً وَکَفَنَھَا فَدَعَتْھَا عَائشَۃُ، فَقَالَتْ: کُلِيْ مِنْ ھٰذَا خَير مِّنْ قُرْصِکِ.۲؎
سيدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے مروی ہے کہ ايک مسکين نے آپ سے سوال کيا جبکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روزے سے تھيں اور گھر ميں سوائے ايک روٹی کے کچھ نہ تھا۔ آپ نے اپنی باندی سے فرمايا: اسے وہ روٹی دے دو، تو باندی نے کہا:آپ کی افطاری کے لئے اسکے سوا کچھ نہیں سيدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمايا: اسے وہ روٹی دے دو، باندی کہتی ہیں تو میں نے وہ روٹی اسے ديدی ا بھی شام نہیں ہوئی تھی کہ اہل بیت نے یا کسی اور شخص نے جو ہدیہ دیا کرتا تھا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بطور ہدیہ ایک بکری بھجوائی لانے والا اس گوشت کو کپڑے میں ڈھانپے ہوئے لے کر آیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خادمہ کو بلاکر فرمایا: لو اس میں سے کھاؤ يہ تمہاری اس روٹی سے بہتر ہے۔
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابيح،ج۷،ص۹۹۔۱۰۱) ۲؎ (شُعَبُ الإيمان، باب في الزکاۃ، فصل فيما جاء فی الإيثار،الحديث:۳۴۸۲،ج۳،ص۲۶۰)