Brailvi Books

ضیائے صدقات
157 - 408
    '' جسے اللہ نے مال اور علم دئيے ''اس کے تحت فرماتے ہیں: علم سے مراد علم دين ہے معلوم ہوا علم دين بھی اللہ تعالیٰ کی دنياوی نعمتوں سے ايک اعلیٰ نعمت ہے۔ علماء فرماتے ہيں کہ مال سانپ ہے علم دين ترياق ہميشہ ترياق کے ساتھ زہر مفيد ہوتاہے بغير ترياق ہلاک کرديتا ہے۔

     حکيم الامّت مفتی احمد يار خان نعيمی رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ فرماتے ہيں:اگرچہ بِحَقِّہِ ميں سارے سلوکِ صدقات داخل ہيں مگر چونکہ عزيزوں قرابت داروں کے حقوق ادا کرنا بہترين عبادت ہے اور تمام صدقات ميں اعلیٰ و افضل اس لئے اس کا ذکر عليحدہ فرمايا گيا۔

    پہلے شخص کے متعلق حديث شريف ميں فرمايا گيا کہ'' وہ بہترين درجوں ميں ہے '' اس کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:اس لئے کہ يہ شخص دين ودنيا دونوں جگہ سرخرو شاد آباد رہے گا کيوں کہ وہ مال کمائے گا حکم الٰہی کے مطابق خرچ کریگا اسی کے مطابق جمع کریگا۔ اسی فرمان کے ما تحت مال کی آمد، جمع، خرچ سب شریعت کے مطابق چاہے۔

    حدیث شریف میں تیسرے شخص کے متعلق فرمایا گیا کہ ''وہ بغير سوچے سمجھے تصرف کرتاہے''اس کی وضاحت میں مفتی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:يعنی حرام و حلال طریقے سے مال کماتا ہے اور ہر حلال، حرام جگہ خرچ کرتا رہتا ہے نہ خود عالم ہے نہ علماء کی بات مانتا ہے جیسا کہ آج کل عام اميروں کا حال ہے۔

    ''صلہ رحمی نہيں کرتا'' اس کی شرح میں فرماتے ہیں:ايسے لوگ اگر کبھی اچھی جگہ خرچ بھی کرتے ہيں تو اپنی ناموری کے لئے خرچ کرتے ہيں مگر بے فائدہ بلکہ مضر۔

    ''یہ خبیث ترین درجہ میں ہے''اس کی وضاحت کرتے ہوئے حکیم الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:کيونکہ اس کا مال اس کے لئے وبال ہے مال کی وجہ سے اس