کھائی گئی وَاللہِ یا بِاللہِ نہيں فرمايا يہ بھی قسم کا ايک طریقہ ہے۔ صدقہ سے مراد ہر خيرات ہے فرضی ہو يا نفلی تجربہ شاہد ہے کہ خيرات سے مال بڑھتا ہے گھٹتا نہيں آزما کر ديکھ لو ميرا رب سچا اور اس کے رسول سچے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم صدقہ سے دنيا ميں برکت آخرت ميں ثواب ہے۔ فقير کا تجربہ تو يہ ہے کہ صدقہ والے مال کو عموماً حاکم، حکيم، وکيل، چور، نہيں کھاتے دنياوی نقصانات بھی بہت کم ہوتے ہيں۔
حکیم الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مذکورہ حدیث کی شرح میں مزید فرماتے ہیں: يہاں صبر سے مراد اخلاقی صبر ہے نہ کہ مجبوری کا صبر۔
''اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھا تاہے''اس کے تحت مفتی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: چنانچہ يوسف علیہ السلام نے اپنے دربار ميں آئے ہوئے اپنے بھائيوں کو معافی دی۔ حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقعہ پر تمام اہل مکہ کو معافی دے دی جن سے عمر بھر ظلم و ستم ديکھے تھے ديکھ لو آج تک ان حضرات کی واہ واہ ہورہی ہے۔ يہ ہے عزّت بڑھنا۔ ؎
صدقے اس انعام کے قربان اس اکرام کے
ہو رہی ہے دونوں عالم ميں تمہاری واہ واہ
''اللہ تعالیٰ اس پر فقیری کا دروازہ کھول دیتا ہے ''اس کے تحت حکیم الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہتجربہ شاہد ہے کہ پيشہ ور بھکاريوں کے پاس اوّلاً تو مال جمع ہوتا ہی نہيں اگر ہوجاوے تو وہ اس سے فائدہ نہيں اٹھاتے جمع کرکے چھوڑ جاتے ہيں ان کے مال ميں برکت نہيں ہوتی۔ مرقات ميں ان کی مثال اس کتے سے دی ہے جو منہ ميں ٹکڑا لئے شفاف و صاف نہر پر گزرے اس ميں اپنے عکس کو ديکھ کر سمجھے کہ يہ دوسرا کتّا ہے اس سے ٹکڑا چھين لينے کے لئے اس پر منہ پھاڑ کر حملہ کرے اپنا ٹکڑا بھی کھو بیٹھے۔