Brailvi Books

ضیائے صدقات
155 - 408
وَعَبْدٌ لَمْ يرزُقْہُ اللہُ مَالاً وَلَا عِلْماً فَھُوَ يقُوْلُ: لَوْ أَنَّ لِيْ مَالاً لَعَمِلْتُ فِيہ بِعَمَلِ فُلَانٍ فَھُوَ بِنِيتہِ، فَوِزْرُھُمَا سَوَائٌ''.۱؎
تو وہ اپنے مال ميں بغيرسوچے سمجھے تصرف کرتاہے، اس ميں اپنے رب سے نہيں ڈرتا، صلہ رحمی نہيں کرتا اور نہ ہی اس ميں حقوق اللہ کو پہچانتا ہے (صدقہ وزکوٰۃ ادا نہیں کرتا) يہ شخص بد ترين درجہ میں ہے۔ (۴) وہ بندہ جسے اللہ تعالیٰ نے نہ مال ديا اور نہ علم یہ کہتا ہے کہ اگر ميرے پاس مال ہوتا تو ميں فلاں (تیسرے شخص) کی طرح تصرف کرتا اسے اس کی نیت کا بدلہ ملے گا اور ان دونوں (تیسرے اور چوتھے شخصوں) کا گناہ برابر ہے۔

     حکیم الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:يعنی تين خبريں قسم سے بيان کرتا ہوں اور ايک خبر بغير قسم کے، خيال رہے کہ حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خبر خواہ قسم سے ہو يا بغير قسم بالکل حق اور درست ہے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خبر کا درست ہونا ایسا ہی لازم و ضروری ہے جيسے اللہ تعالیٰ کی خبر کا حق ہونا لازم ہے کہ رب تعالیٰ کا جھوٹ بھی نا ممکن ہے اور نبی کا جھوٹ بھی ناممکن۔۲؎

    حکیم الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مزید فرماتے ہیں:يہاں صرف أُقْسِمُ فرماکر قسم
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (سنن الترمذي، کتاب الزھد، باب ما جاء مثل الدنيا...إلخ،الحديث:۲۳۲۵،ج۳،ص۲۹۵)

(سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب النيۃ،الحديث:۴۲۲۸،ج۴،ص۵۲۴)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب الرقاق، باب استحباب المال والعمر للطاعۃ،الحديث:۵۲۸۷،ج۲،ص۲۶۱)

۲ ؎    (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابيح،ج۷،ص۹۹۔۱۰۱)
Flag Counter