Brailvi Books

ضیائے صدقات
154 - 408
عَبْدٌ مَظْلَمَۃً صَبَرَ عَلَیھَا إِلَّا زَادَ اللہُ عِزّاً، وَلَا فَتَحَ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَۃٍ إِلَّا فَتَحَ اللہُ عَلَيہ بَابَ فَقْرٍ، أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَھَا، وَأُحَدِّثُکُمْ حَدِيثاً فَاحْفَظُوْہُ''. قَالَ: ''إِنَّمَا الدُّنْيا لِأَرْبَعَۃِ نَفَرٍ: عَبْدٌ رَزَقَہُ اللہُ مَالاً وَعِلْماً فَھُوَ يتقِي فِيہ رَبَّہُ، وَيصِلُ فِيہ رَحِمَہُ، وَيعْلَمُ لِلّٰہِ فِيہ حَقّاً فَھٰذَا بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ، وَعَبْدٌ رَزَقَہُ اللہُ عِلْماً وَلَمْ 

يرزُقْہُ مَالاً فَھُوَ صَادِقُ النِّيۃِ يقُوْلُ: لَوْ أَنَّ لِيْ مَالاً لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ فَھُوَ بِنِيتہِ فَأَجْرُھُمَا سَوَائٌ، وَعَبْدٌ رَزَقَہُ اللہُ مَالاًوَلَمْ يرزُقْہُ عِلْماً يخْبِطُ فِيْ مَالِہِ بِغَير عِلْمٍ، وَلَا يتقِي فِيہ رَبَّہُ، وَلَا يصِلُ فِيہ رَحِمَہُ، وَلَا يعْلَمُ لِلّٰہِ فِيہ حَقّاً فَھٰذَا بِأَخْبَثِ الْمَنَازِلِ،
نہيں ہوتا اور کوئی ظلم نہیں کيا جاتاجس پر صبروہ کرے مگر اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھاتا ہے اور کوئی (اپنے لئے) مانگنے کا دروازہ نہیں کھولتا مگر اللہ تعالیٰ اس پر فقیری کا دروازہ کھول ديتا ہے اور تمہيں ايک اور بات بتارہا ہوں اُسے ياد رکھو، فرمايا: دنيا چار قسم کے بندوں کی ہے۔(۱) وہ بندہ جسے اللہ نے مال اور علم دئيے تو وہ اس ميں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا(اور نیک اعمال کرتا) ہے صلہ رحمی کرتاہے اور اس ميں اللہ تعالیٰ کاحق پہچانتا ہے(صدقہ وزکوٰۃ ادا کرتا ہے) يہ شخص بہترين درجہ ميں ہے۔ (۲) وہ بندہ جسے اللہ نے علم ديا اورمال نہیں ديا وہ خلوص نیت کے ساتھ کہتا ہے کہ اگر ميرے پاس مال ہوتا تو ميں فلاں (پہلے شخص) کی طرح عمل کرتا،اسے اس کی نیت کا بدلہ ملے گا اور ان دونوں (پہلے اور دوسرے) کا ثواب برابر ہے۔ (۳) وہ بندہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال ديااور علم نہ ديا
Flag Counter