Brailvi Books

ضیائے صدقات
153 - 408
دنيوی مصيبتيں آتی نہيں اور اگر امتحاناً آبھی جائيں تو رب تعالیٰ کی طرف سے اسے سکون قلبی نصيب ہوتا ہے جس سے وہ صبر کرکے ثواب کما ليتا ہے غرض کہ اس کے لئے مصيبت معصيت لے کر نہيں آتی مغفرت لے کر آتی ہے، معصيت والی مصيبت خدا تعالیٰ کا غضب ہے اور مغفرت والی مصيبت اللہ عزوجل کی رحمت لہٰذا حديث پر يہ اعتراض نہيں کہ سخيوں پر مصيبتيں آجاتی ہيں، عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جيسے سخی بڑی بے دردی سے شہيد کئے گئے۔

    بری موت سے مراد خرابیئ خاتمہ ہے يا غفلت کی اچانک موت يا موت کے وقت ایسی علامت کا ظہور ہے جو بعد موت بدنامی کا باعث ہو اور ایسی سخت بيماری ہے جو ميت کے دل ميں گھبراہٹ پيدا کرکے ذکر اللہ سے غافل کردے، غرض کہ سخی بندہ ان تمام برائيوں سے محفوظ رہے گا، ميرے پاک نبی سچے، اُن کا رب سچا، اللہ تعالیٰ اُنکے طفيل ہم سب کو سخاوت کی توفیق دے اور يہ نعمتيں عطا فرمائے۔۱؎
عَنْ أَبِيْ کَبْشَۃَ الْأَنْمَارِيِّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ''ثَلَاثٌ أُقْسِمُ عَلَیْھِنَّ، وَأُحَدِّثُکُمْ حَدِيثاً فَاحْفَظُوْہُ''، قَالَ: ''مَا نَقَصَ مَالُ عَبْدٍ مِّنْ صَدَقَۃٍ، وَلَا ظُلِمَ
حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی مکرم، نورمجسم، رسول اکرم، شہنشا ہ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا کہ تين باتيں وہ ہيں جن پر ميں قسم کھاتا ہوں اور ايک بات کی تمہيں خبر ديتا ہوں اسے ياد رکھو ،فرمایا: کہ کسی بندے کا مال صدقہ کرنے سے کم
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (مرآۃ المناجيح شرح مشکاۃ المصابيح،ج۳،ص۱۰۳)
Flag Counter