Brailvi Books

ضیائے صدقات
152 - 408
    حديث شريف ميں ہے:
عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''يا کَعْبُ بْنُ عُجْرَۃَ: اَلصَّلَاۃُ بُرْھَانٌ، وَالصَّوْمُ جُنَّۃٌ، وَالصَّدَقَۃُ تُطْفِيئُ الْخَطِيئَۃَ کَمَا يطْفِيئُ الْمَاءُ النَّارَ'' (الحديث)۱؎
حضرت کعب بن عُجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرو ی ہے فرماتے ہيں: سرکار والا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روز شمار،دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: نماز (ايمان کی) دليل ہے اور روزہ (گناہوں سے) ڈھال ہے اور صدقہ کوتاہيوں کو يوں مٹا ديتا ہے جيسے آگ کو پانی۔

    ايک اور حديث ميں فرمايا:
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''إِنَّ الصَّدَقَۃَ لَتُطْفِيئُ غَضَبَ الرَّبِّ وَتَدْفَعُ مِيتۃَ السُّوْءِ''.۲؎
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں: آقائے مظلوم، سرور معصوم، حسن اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، محبوب ر ب اکبر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: صدقہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو بجھاتا ہے اور بُری موت کو دفع کرتا ہے۔ 

     حکیم الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: يعنی خيرات کرنے والے سخی کی زندگی بھی اچھی ہوتی ہے کہ اوّلاً تو اس پر
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (سنن الترمذي، أبواب السفر، باب ما ذُکِر في فضل الصلاۃ،الحديث:۴۱۶،ج۱،ص۴۴۷)

۲؎    (سنن الترمذي، کتاب الزکاۃ، باب ما جاء في فضل الصدقۃ،الحديث:۶۶۴،ج۱،ص۴۷۸)

(مشکاۃ المصابيح،کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ،الحديث:۱۹۰۹،ج۱،ص۳۶۲)
Flag Counter