| ضیائے صدقات |
آگ سے بچنے کی کوئی صورت پالے مگر وہ اس سے راہ فرار نہ پاسکے گا۔
''آگ سے بچو اگرچہ کھجور کی قاش کے ذریعہ'' يعنی جب تم بندے کی بروزِ قيامت اس حالت کو جان چکے تو اس سے بچنے کی سبيل کرو اور کسی پر ظلم نہ کرو اور صدقہ ديا کرو چاہے کھجور کی قاش کے ذريعہ ہو، آدھی کھجور کے ذريعہ يا تھوڑی ہی پر اکتفاء کرو، معنی يہ ہيں کہ جو بھی چيز (اگرچہ خفيف ہو) میسّر آجائے اسی سے صدقہ کرو کيونکہ
يہ تمہارے اور آگ کے درميان حائل ہونے والا پردہ ہوگی (جامع صغير کی حديث شريف ہے) بے شک صدقہ جنت ہے اور جنت کی طرف وسيلہ ہے۔۱؎
ايک اور حديث شريف ميں ہےـ:عَنْ عَاءِشَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''يا عَاءِشَۃُ! اِسْتَتِرِي مِنَ النَّارِ، وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ فَإِنَّھَا تَسُدُّ مِنَ الْجَاءِعِ مَسَدَّھَا مِنَ الشَّبْعَانِ''.۲؎
سيدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے، فرماتی ہيں: تاجدار رسالت، شہنشاہ نبوت، مخزنِ جود وسخاوت، پیکر عظمت و شرافت، محبوب ر ب العزت،محسن انسانیت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: اے عائشہ! آگ سے بچو اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذريعہ، یہ بھوکے کے لئے سیری کے برابر ہے۔
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (مرقاۃ المفاتيح شرح مشکاۃ المصابیح،تحت الحديث:۵۵۵۰) (عمدۃ القاری شرح صحيح البخاري،تحت الحديث:۶۵۳۹) ۲؎ (المسند للإمام أحمد بن حنبل،مسند السیدۃ عائشۃ رضي اللہ عنھا، الحديث:۲۵۰۰۶، ج۸،ص۱۲۰)