اس حدیث کی شرح میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ قيامت ميں ہر ايک کو ربّ کا ديدار بھی ہوگا اور ہر ايک رب کا کلام بھی سنے گا مگر صالحين کو رحمت کا ديدار و کلام ہوگا بدکاروں سے غضب ،قہر کا۔ قرآن مجيد ميں جو ارشاد باری ہے کہ ہم ان سے کلام نہ کريں گے ہم ان کو ديکھيں گے نہيں وہاں رحمت و کرم کا ديدار وکلام مراد ہے۔۱؎
مزید فرماتے ہیں: ہر چہار طرف اعمال ہوں گے بيچ ميں عامل ہوگا اپنے ہر عمل کا نظارہ کریگا۔
''آگ کے سوا نہ دیکھے گا''اس کے تحت فرماتے ہیں:يعنی حساب يہاں ہورہا ہوگا اور دوزخ کی آگ سامنے سے نظر آرہی ہوگی کيسا بھيانک نظارہ ہوگا خدا کی پناہ۔
دوزخ سے بچنے کا اعلیٰ ذريعہ صدقہ و خيرات ہے صدقہ اگرچہ معمولی ہو لیکن اخلاص سے ہو، وہ بھی آگ سے بچالے گا وہاں صدقہ کی مقدار نہيں ديکھی جاتی وہاں صدقہ والے کی نيت پر نظر ہوتی ہے کھجور کی قاش کی ہی خيرات کر دو شايد وہ ہی دوزخ سے بچالے يا يہ مطلب ہے کہ کسی کا معمولی حق بھی نہ مارو کہ وہ بھی دوزخ ميں بھيج دے گا کسی کی کھجور کی قاش اس کی بغير اجازت نہ لو۔۲؎