سمندر و ہوا سے زيادہ طوفانی ہے، نفس اولاً تو بخل سکھاتا ہے جب سخاوت کی جائے تو دکھلاوے کو پسند کرتا ہے، يہ خفيہ سخاوت کرنے والا نفس کی دونوں خواہشوں کو کچل ديتا ہے اور نفس کی آگ کو بجھاديتا ہے لہٰذا بڑا بہادر ہے، نيز خفيہ صدقہ سے غضبِ الٰہی کی آگ بجھتی ہے، رضائے الٰہی حاصل ہوتی ہے، يہ نعمتيں پہاڑ، لوہے، آگ، پانی، ہوا سے حاصل نہيں ہوسکتيں، لہٰذا يہ صدقہ اُن سب سے بہتر۔
صوفيائے کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم فرماتے ہيں کہ سخاوتِ مال سے سخاوتِ حال افضل ہے اور سخاوتِ حال سے سخاوتِ کمال بہتر کہ سخاوتِ مال ميں فقير کی اسی زندگی کے دو ايک دن سنبھل جاتے ہيں مگر حال و کمال کی سخاوت سے ہم جيسے مسکينوں کے دونوں جہان درست ہوجاتے ہيں، حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تاقيامت لوگوں کے دين ودنيا سنبھال دئيے، حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بڑے داتا ہيں،جيسے زمين پہاڑوں سے ٹھہری ايسے ہی ہمارے دل کسی کی نگاہِ کرم سے ٹھہر سکتے ہيں ورنہ دل کا کوئی ٹھکانہ نہيں۔۱؎
جو مال صدقہ کرديا جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے بقاء پاجاتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی محافظت ميں داخل ہوجاتا ہے اور ان شاء اللہ بروزِ قيامت وہ اجر و ثواب کی صورت ميں انسان کو نفع پہنچائے گا۔ حديث شريف ميں ہے: