حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ اہل بيت نے بکری ذبح کی تو اللہ عزوجل کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: اس ميں سے کيا بچا؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب ديا کہ کندھے کے سواکچھ نہیں بچا حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: کندھے کے سوا سب بچ گيا۔
''کندھے کے سوا کچھ نہیں بچا'' اس کی وضاحت کرتے ہوئے مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:يعنی سارا گوشت خيرات کرديا گيا صرف شانہ بچا ہے۔ غالباً يہ گھر کے خرچ کے لئے رکھا گيا ہوگا اور يہ بکری صدقہ کے لئے ذبح نہ کی گئی ہوگی کہ صدقہ کا گوشت گھر کے خرچ کے لئے نہيں رکھا جاتا۔
''کندھے کے سوا سب بچ گیا''اس کے تحت مفتی صاحب فرماتے ہیں: یعنی جو راہ خدا میں صدقہ دے دیا گیا وہ باقی اور لازوال ہوگیا اور جو اپنے کھانے کے ليے رکھا گیا وہ ہضم ہو کر فنا ہو جائے گا، رب تعالیٰ فرماتا ہے: