نے زمين ميں لنگر ڈالے کہ کہيں تمہيں لے کر نہ کانپے (کنزالايمان[النحل:۱۶/۱۵] (ملخصاً)
حکیم الامّت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مزید فرماتے ہیں:فرشتوں کو حيرت يہ ہوئی کہ پہاڑوں نے اتنی بڑی زمين کو اس طرح دبوچ ليا کہ اسے ہلنے نہيں ديتے تو ان سے سخت تر مخلوق کون سی ہوگی، خيال رہے کہ پہاڑ زمين سے زيادہ وزنی نہيں مگر جيسے جہاز کا سامان جہاز کے وزن سے کہيں ہلکا ہوتا ہے مگر جہاز کو ہلنے نہيں ديتا اسی طرح پہاڑ کا معاملہ ہے۔
لوہے، آگ، پانی، ہوا، کے پہاڑ، لوہے، آگ، پانی سے زيادہ مضبوط ہونے کی و جہ بیان کرتے ہوئے مفتی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
''کيونکہ لوہا پہاڑ کو توڑ ديتا ہے، پہاڑ لوہے کو نہيں توڑتا''۔
''آگ لوہے کو پگھلا ديتی ہے بلکہ زيادہ تيز ہو تو لوہے کو گلا کر پانی بناديتی ہے''۔
''پانی آگ کو بجھاديتا ہے، اگرچہ آگ پانی کو گرم بھی کرديتی ہے اور جلا بھی ديتی ہے مگر کسی برتن کی مدد سے جبکہ پانی اس ميں بند ہو، اگر آڑ ہٹادی جائے تو پانی ہی آگ کو بجھاتا ہے لہٰذا حديث پر کوئی اعتراض نہيں، پانی قيد ميں رہ کر جلتا ہے''۔
''ہوا پانی سے لدے بادلوں کو اُڑائے پھرتی ہے اور سمندر ميں طلاطم پيدا کرديتی ہے جس سے وہاں طوفان برپا ہوجاتا ہے''۔۱؎
پوشیدہ سخاوت کرنے والے شخص کے ان تمام سے مضبوط ہونے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ کيونکہ ايسا سخی اس سرکش نفس کو تابعدار کرليتا ہے جو پہاڑ سے زيادہ سخت،