فرشتے عرض گزار ہوئے: اے رب! کيا کوئی مخلوق پانی سے بھی زيادہ طاقتور پیدا فرمائی ہے؟ ارشادفرمايا: وہ ہوا ہے۔ وہ پھر عرض کرنے لگے: اے پروردگار! کيا ہوا سے بھی زيادہ سخت کسی مخلوق کو پیدا فرمایا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمايا: ہاں وہ انسان کہ جب داہنے ہاتھ سے صدقہ کرے تو اسے بائيں ہاتھ سے چُھپائے۔
حدیث مذکور کی تشریح میں حکیم الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:جيسے ہلکی کشتی وجہاز پانی پر ہلتا ہے اسی طرح زمين ہلتی تھی فرشتوں نے گمان کيا کہ اس سے لوگ نفع نہ اُٹھاسکيں گے۔۲؎
حکیم الامت مزید فرماتے ہیں: مرقات نے فرمايا کہ پہلے بو قبیس پہاڑ پيدا ہوا پھر دوسرے پہاڑ، ان پہاڑوں سے زمين ايسی ٹھہر گئی جيسے جہاز ميں وزن لاد دينے سے دريا پر ٹھہر جاتا ہے جنبش نہيں کرتا، پہاڑ زمين ميں ايسے گڑھے ہيں جيسے زمين ميں مضبوط درخت کہ پہاڑوں کی جڑيں دور تک پھيلی ہوتی ہيں، رب تعالیٰ فرماتا ہے: