| ضیائے صدقات |
سے تمام صدقات مراد ہيں جنہيں اچھی طرح مال حلال سے خوشدلی کے ساتھ راہ خُدا
ميں خرچ کيا جائے۔۱؎
اسی طرح فضائل صدقات ميں اللہ کے محبوب دانائے غيوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مبارک فرمودات بھی بے شمار وارد ہيں، چنانچہ صدقہ کرنے والے کی روحانی طاقت کا کيا خوب بيان فرمايا:عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''لَمَّا خَلَقَ اللہُ الْأَرْضَ جَعَلَتْ تَمِيد وَتَکَفَّأُ فَأَرْسَاھَا بِالْجِبَالِ فَاسْتَقَرَّتْ فَعَجِبَتِ الْمَلَاءِکَۃُ مِنْ شِدَّۃِ الْجِبَالِ، فَقَالَتْ: يا رَبَّنَا! ھَلْ خَلَقْتَ خَلْقاً أَشَدَّ مِنَ الْجِبَالِ؟ قَالَ: نَعَمْ اَلْحَدِيد، قَالُوْا: فَھَلْ خَلَقْتَ خَلْقاً أَشَدَّ مِنَ الْحَدِيد؟، قَالَ: اَلنَّارَ. قَالُوْا: فَھَلْ خَلَقْتَ خَلْقاً أَشَدَّ مِنَ النَّارِ؟ قَالَ: اَلْمَاء.
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہيں:سید المبلغین، رحمۃللعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: جب اللہ تعالیٰ نے زمين کو پيدا فرمايا تووہ ہلنے لگی تو اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو اس میں گاڑ دياجس سے زمين ٹھہر گئی، فرشتے پہاڑوں کی مضبوطی سے متعجب ہوئے اور عرض کیا: الٰہی! کيا تونے پہاڑوں سے بھی زيادہ سخت وشدید کوئی مخلوق پیدا فرمائیہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمايا: ہاں!وہ لوہا ہے۔انہوں عرض کیا: الٰہی! کيا تونے لوہے سے بھی زيادہ مضبوط کوئی مخلوق بنائی ہے؟ فرمايا: ہاں! وہ آگ ہے۔ فرشتوں نے عرض کيا: مولیٰ! کيا آگ سے بھی زيادہ قوی کوئی مخلوق پیدا فرمائی ہے؟ ارشاد ہوا: وہ پانی ہے۔
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (خزائن العرفان)