| ضیائے صدقات |
اِنَّ الْمُصَّدِّقِیۡنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللہَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَہُمْ وَ لَہُمْ اَجْرٌ کَرِیۡمٌ ﴿۱۸﴾
ترجمہ کنزالایمان: بیشک صدقہ دينے والے مرد اور صدقہ دينے والی عورتيں اور وہ جنہوں نے اللہ کو اچھا قرض ديا ان کے دونے ہيں اور ان کے لئے عزت کا ثواب ہے۔ (الحديد:۵۷/۱۸)
''اچھا قرض دیا''اس کی تفسیر میں صدر الافاضل فرماتے ہیں:يعنی خوشدلی اور نيت صالحہ کے ساتھ مستحقين کو صدقہ ديا اور راہِ خدا ميں خرچ کيا۔۱؎
''ان کے لئے عزت کا ثواب ہے''اس کی تفسیر میں صدر الافاضل فرماتے ہیں: اور وہ جنت ہے۔۲؎
ايک اور مقام پر فرمايا:وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ اَقْرِضُوا اللہَ قَرْضًا حَسَنًا ؕ وَمَا تُقَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِکُمۡ مِّنْ خَیۡرٍ تَجِدُوۡہُ عِنۡدَ اللہِ ہُوَ خَیۡرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا ؕ الآیۃ
ترجمہ کنزالایمان : اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو اچھا قرض دو اور اپنے لئے جو بھلائی آگے بھيجو گے اسے اللہ کے پاس بہتر اور بڑے ثواب کی پاؤ گے۔(المزمل:۷۳/۲۰)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمايا کہ اس قرض سے مراد زکوٰۃ کے سوا راہِ خدا ميں خرچ کرنا اور صلہ رحمی ميں اور مہمانداری ميں اور يہ بھی کہا گيا کہ اسمدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (خزائن العرفان) ۲؎ (خزائن العرفان)