| ضیائے صدقات |
''اوروں کا جانشین کیا'' اس کے تحت صدر الافاضل فرماتے ہیں:جو تم سے پہلے تھے اور تمہارا جانشين کریگا تمہارے بعد والوں کو معنی يہ ہيں جو مال تمہارے قبضے ميں ہيں سب اللہ تعالیٰ کے ہيں اس نے تمہيں نفع اُٹھانے کے لئے دے دئيے ہيں تم حقيقۃً ان کے مالک نہيں ہو بمنزلہ نائب و وکيل کے ہو، انہيں راہِ خدا ميں خرچ کرو اور جس طرح نائب اور وکيل کو مالک کے حکم سے خرچ کرنے ميں کوئی تامل نہيں ہوتا تو تمہيں بھی کوئی تامل و تردّد نہ ہو۔۱؎
اور ايک مقام پرراہ خدا میں خرچ نہ کرنے والوں کو تنبيہ فرمائی گئی:وَ مَا لَکُمْ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَ لِلہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ؕ الآیۃ
ترجمہ کنزالایمان: اور تمہيں کيا ہے کہ اللہ کی راہ ميں خرچ نہ کرو حالانکہ آسمانوں اور زمين ميں سب کا وارث اللہ ہی ہے۔(الحديد:۵۷/۱۰)
''سب کا وارث اللہ ہی ہے'' اس کی وضاحت کرتے ہوئے صدر الافاضل فرماتے ہیں:تم ہلاک ہوجاؤگے اور مال اسی کی مِلک ميں رہ جائيں گے اور تمہيں خرچ کرنے کا ثواب بھی نہ ملے گا اور اگر تم خدا کی راہ ميں خرچ کرو تو ثواب بھی پاؤ۔۲؎
اور راہِ خدا ميں خيرات کرنے والوں کو قرضِ حسن دينے والا فرمايا اور ان کے ليے معزّز ثواب کی بشارت ہے۔مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (خزائن العرفان) ۲؎ (خزائن العرفان)