| ضیائے صدقات |
خرچ کيا جائے گا۔ دُوسری حديث ميں ہے صدقہ سے مال کم نہيں ہوتا، معاف کرنے سے عزّت بڑھتی ہے، تواضع سے مرتبے بلند ہوتے ہيں۔۱؎
ايک اور مقام پر پوشیدہ اوراعلانیہ راہ خدا میں خرچ کرنے والوں کی تعریف فرمائی گئی ہے:اِنَّ الَّذِیۡنَ یَتْلُوۡنَ کِتٰبَ اللہِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً یَّرْجُوۡنَ تِجَارَۃً لَّنۡ تَبُوۡرَ ﴿ۙ۲۹﴾لِیُـوَفِّیَہُمْ اُجُورَہُمْ وَ یَزِیۡدَہُمۡ مِّنۡ فَضْلِہٖ ؕ اِنَّہٗ غَفُوۡرٌ شَکُوۡرٌ ﴿۳۰﴾
ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جو اللہ کی کتاب پڑھتے ہيں اور نماز قائم رکھتے ہيں اور ہمارے دئيے سے کچھ ہماری راہ ميں خرچ کرتے ہيں پوشيدہ اور ظاہر وہ ايسی تجارت کے اميدوار ہيں جس ميں ہرگز ٹوٹا نہيں تاکہ ان کے ثواب انہيں بھرپور دے اور اپنے فضل سے اور زيادہ عطا کرے بیشک وہ بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے۔
نيز خيرات کرنے والوں کے لئے بڑا اجر ہے:(فاطر:۳۵/۲۹۔۳۰)اٰمِنُوۡا بِاللہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا جَعَلَکُمۡ مُّسْتَخْلَفِیۡنَ فِیۡہِ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمْ وَ اَنۡفَقُوۡا لَہُمْ اَجْرٌ کَبِیۡرٌ ﴿۷﴾
ترجمہ کنزالایمان:اللہ اور اس کے رسول پر ايمان لاؤ اور اس کی راہ ميں کچھ خرچ کرو جس ميں تمہيں اوروں کا جانشين کيا تو جو تم ميں ايمان لائے اور اس کی راہ ميں خرچ کيا ان کے لئے بڑا ثواب ہے۔(الحديد:۵۷/۷)
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (خزائن العرفان)