''جو کچھ ديں'' کی تفسیر میں مولانا نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: زکوٰۃ و صدقات يا يہ معنی ہيں کہ اعمالِ صالحہ بجا لاتے ہيں۔
ترمذی کی حديث ميں ہے کہ حضرت اُمّ المؤمنين عائشہ صديقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے دريافت کيا کہ کيا اس آيت ميں ان لوگوں کا بيان ہے جو شرابيں پيتے ہيں اور چوری کرتے ہيں فرمايا اے صديق کی نورديدہ ايسا نہيں يہ اُن لوگوں کا بيان ہے جو روزے رکھتے ہيں صدقے ديتے ہيں اور ڈرتے رہتے ہيں کہ کہيں يہ اعمال نامقبول نہ ہوجائيں۔
''یہی سب سے پہلے انہیں پہنچے'' اس کی وضاحت میں صدر الافاضل فرماتے ہیں:یعنی نیکیوں کو، معنی یہ ہیں کہ وہ نیکیوں میں اور امتوں پر سبقت کرتے ہیں۔۱؎
اور فرمايا: