Brailvi Books

ضیائے صدقات
136 - 408
    اور فرمايا:
اَلَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوَالَہُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوۡنَ مَاۤ  اَنۡفَقُوۡا مَنًّا وَّلَاۤ  اَذًی ۙ لَّہُمْ اَجْرُہُمْ عِنۡدَ رَبِّہِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ
ترجمہ کنزالایمان:وہ جو اپنے مال اللہ کی راہ ميں خرچ کرتے ہيں پھر دئيے پيچھے نہ احسان رکھيں نہ تکليف ديں ان کا نیگ ان کے رب کے پاس ہے اور انہيں نہ کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم(البقرۃ:۲/۲۶۲)

    شانِ نزول: يہ آيت حضرت عثمان غنی و حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے حق ميں نازل ہوئی حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہنے غزوئہ تبوک کے موقع پر لشکر اسلام کے لئے ايک ہزار اُونٹ مع سامان پیش کئے اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چار ہزار درہم صدقہ کے بارگاہ رسالت ميں حاضر کئے اور عرض کیا کہ ميرے پاس کُل آٹھ ہزار درہم تھے نصف ميں نے اپنے اور اپنے اہل وعيال کے لئے رکھ لئے اور نصف راہِ خدا ميں حاضر ہيں سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: جو تم نے دئيے اور جو تم نے رکھے اللہ تعالیٰ دونوں ميں برکت فرمائے۔۱؎

    ''نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں'' اس کی وضاحت میں صدر الافاضل فرماتے ہیں: احسان رکھنا تو يہ کہ دينے کے بعد دُوسروں کے سامنے اظہار کريں کہ ہم نے تيرے ساتھ ايسے ايسے سلوک کئے اور ان کو مکدّر (يعنی شرمندہ) کريں اور تکليف دينا يہ کہ اسکو عار دلائيں کہ تو نادار تھا مفلِس تھا مجبور تھا نکمّا تھا ہم نے تيری خبرگيری کی يا اور
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎     (خزائن العرفان)
Flag Counter