| ضیائے صدقات |
يہ دوا نافع ہے، يہ مضر ہے، يہ درد کی دافع ہے، ماں باپ نے پالا، عالم نے گمراہی سے بچايا، بزرگوں نے حاجت روائی کی وغيرہ سب ميں اسناد مجازی ہے اور مسلمانوں کے اعتقاد ميں فاعل حقيقی صرف اللہ تعالیٰ ہے باقی سب وسائل۔۱؎
اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خيرات کرنے والوں کے اعمال کی مثال قرآن مجيد میں يوں بيان فرمائی گئی:وَمَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوَالَہُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللہِ وَتَثْبِیۡتًا مِّنْ اَنۡفُسِہِمْ کَمَثَلِ جَنَّۃٍۭ بِرَبْوَۃٍ اَصَابَہَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُکُلَہَا ضِعْفَیۡنِ ۚ فَاِنۡ لَّمْ یُصِبْہَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ؕ
ترجمہ کنزالایمان:اور ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی رضا چاہنے ميں خرچ کرتے ہيں اور اپنے دل جمانے کو اس باغ کی سی ہے جو بھوڑ پر ہو اس پر زور کا پانی پڑا تو دُونے ميوے لايا پھر اگر زور کا مينہ اسے نہ پہنچے تو اوس کافی ہے۔ (البقرۃ:۲/۲۶۵)
صدر الافاضل فرماتے ہیں:يہ مومن مخلص کے اعمال کی ايک مثال ہے کہ جس طرح بلند خطہ کی بہتر زمين کا باغ ہر حال ميں خوب پھلتا ہے خواہ بارش کم ہو يا زيادہ ايسے ہی با اخلاص مومن کا صدقہ اور اِنفاق خواہ کم ہو يا زيادہ ہو اللہ تعالیٰ اس کو بڑھاتا ہے۔۲؎مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (خزائن العرفان) ۲؎ (خزائن العرفان)